محترم وسیم احمد صاحب شہید

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ جولائی 2011ء میں عزیزم ولید احمد نے اپنے والد محترم وسیم احمد صاحب کا ذکرخیر کیا ہے جو 28؍مئی 2010ء کو دارالذکر لاہور میں شہید کردیئے گئے۔
محترم وسیم احمد صاحب 1956ء میں چکوال کے گاؤں رتوچھ میں پیدا ہوئے۔ میٹرک چوآسیدن شاہ سے کیا۔ برملا اپنی احمدیت کا اظہار کرتے۔ بڑے حسّاس انسان تھے۔اپنے رشتہ داروں میں ہردلعزیز تھے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا بہت خیال رکھا۔ بِلا تخصیص مذہب، یتیموں سے خاص طور پر محبت رکھتے اور اُن کی مدد کرتے رہتے۔
جماعت سے والہانہ محبت تھی۔ راولپنڈی میں ملازمت کے دوران اخبار الفضل میں پڑھا کہ دارالذکر لاہور کے لیے سیکیورٹی گارڈ کی ضرورت ہے تو فوراً استعفیٰ دے کر لاہور چلے آئے اور ہمیشہ شکرگزار رہتے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔
28مئی کی صبح شہید مرحوم نے غیرمتوقع طور پر اپنے گھر فون کیا اور سب سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ امیر صاحب نے ان کی درخواست پر سیکیورٹی گارڈز کے لیے نئی وردیاں بنوائی ہیں اور اُس روز انہوں نے پہلی بار نئی وردی پہنی تھی۔ عموماً ان کی ڈیوٹی گیٹ کے اندر ہوتی تھی لیکن اُس روز انہوں نے درخواست کرکے گیٹ کے باہر ڈیوٹی لگوائی۔ دہشت گردوں نے آتے ہی فائرنگ کی تو ان کی ٹانگ میں گولی لگی۔ اگرچہ یہ اُس وقت باہر سے ہی اپنی جان بچاسکتے تھے لیکن انہوں نے جرأت کے ساتھ اندر جاکر دروازہ بند کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران ایک دہشت گرد نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی اور یہ وہیں شہید ہوگئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/YDVnY]

اپنا تبصرہ بھیجیں