محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی شہید

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ26نومبر 2008ء میں مکرم منصور احمد صاحب امیر جماعت ضلع حیدر آباد رقمطراز ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے 1962ء میں محترم ڈاکٹر عبدالرحمن صدیقی صاحب کو یہ ہونہار بیٹا عطا کیا جس نے جلد جلد علم و عمل کی منزلیں طے کیں۔ ان کے ڈاکٹر بننے پر آپ نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں بطور خاص اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ بیٹے کا عطا ہونا، ان کی زندگی میں ایم بی بی ایس کرنا اور خود ڈاکٹر صاحب کو جو عارضہ قلب میں مبتلا تھے زندگی کا عطا ہونا کہ وہ بیٹے کی خوشیاں دیکھ سکیں ایسے امور تھے جو اعجازی رنگ رکھتے ہیں۔
محترم ڈاکٹر عبدالمنان صاحب کی شخصیت میں اللہ تعالیٰ نے بہت نمایاں خوبیاں ودیعت کی تھیں۔ نماز باجماعت کا التزام بطور خاص کرتے تھے۔ نماز فجر بعض اوقات دُور دراز جماعتوں میں جا کر ادا کرتے تھے اور رات گئے بھی گھر لوٹتے تو صبح فجر کی نماز پہ موجود ہوتے۔ سینکڑوں میل دور جاکر طبی کیمپ لگاتے اور اپنے ساتھ ڈاکٹرز اور عملہ کی خاصی تعداد لے جاتے تا زیادہ سے زیادہ مریض استفادہ کر سکیں۔ بعض اوقات عاجز کو بھی حیدر آباد سے ڈاکٹر یا عملہ بھجوانے کے لئے ارشاد فرماتے۔ خلافت سے عشق تھا خلافت کی ہر آواز پر لبیک کہتے ہوئے فوری اقدام فرماتے۔
ڈاکٹر صاحب محترم کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی بصیرت عطا فرمائی تھی۔ فوراً معاملہ کی نوعیت سمجھ جاتے اور اس کے مطابق انتظامی اقدامات کرتے جس کے نتیجہ میں معاملات بروقت سلجھانے میں کامیاب ہوجاتے۔ طبیعت میں حوصلہ مندی اور دلیری کی صفات بہت نمایاں تھیں۔جب کسی کام کو کرنے کا عزم کرتے تو ظاہری کوشش کے ساتھ ساتھ حضور پُر نور کی خدمت میں دعا کے لئے لکھتے۔
میری بیماری کے علاج کے سلسلہ میں مجھے اپنے پاس آنے کا کہا کرتے۔ میری والدہ مرحومہ میری بچپن کی بیماری کا تذکرہ فرمایا کرتی تھیں کہ اُن دنوں بچوں میں اس نوع کی بیماری تھی جس سے کئی بچے وفات پاچکے تھے۔ جب عاجز کو یہ بیماری لاحق ہوئی تو اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے دورئہ سندھ کا آغاز ہوا۔ حضور پُرنور کے معالج حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خانصاحبؓ اور حضرت ڈاکٹر احمددین صاحب کے مشورہ سے علاج کا آغاز ہوااور یہ ہدایت کی گئی کہ جس سٹیٹ میں حضور انور کا دورہ ہو میری والدہ مجھے لے کر ساتھ ساتھ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعودؓ کی دعاؤں اور ان معالجین کی شفقت سے مجھے شفا عطا فرمائی۔
محترم ڈاکٹر عبدالرحمن صدیقی صاحب اور پھر ڈاکٹر عبدالمنان صاحب بھی دست مسیحائی رکھنے والے غلامان مسیح مخلوق خدا کے سچے ہمدرد تھے۔ محترم ڈاکٹر صاحب کلینک کے اوقات اور طبی کیمپس میں تو مشورہ دیتے اور علاج کرتے ہی تھے لیکن آپ چلتے پھرتے مسیحا نفس وجود تھے۔ ٹیلیفون پر بھی نسخے اور مشورے جاری رہتے اور جماعتی دوروں میں بھی یہ سلسلہ ساتھ ساتھ رواں دواں رہتا۔
محترم ڈاکٹر صاحب میں مہمان نوازی کا و صف بہت نمایاں تھا۔ مرکز سے آئے ہوئے مہمانان گرامی واقفین زندگی کارکنان سلسلہ اور مقامی احباب کے ساتھ ایسے مواقع پیدا کرتے رہتے تھے کہ مل بیٹھنے کا کوئی سلسلہ ہو جائے۔ محبت کا عجب انداز تھا وہ دل کے معالج تو تھے ہی لیکن اصل مسیحائی تو وہ دل جیت کر کرتے تھے۔ سینکڑوں کی تعداد میں بندگان خدا ایسے تھے جن کا نہ صرف علاج مفت ہوتا تھا بلکہ ادویات وغیرہ بھی ان کو مہیا کر دیتے تھے۔ ان تمام خوبیوں کے باوجود عاجزی انکساری بہت تھی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/bmXa5]

اپنا تبصرہ بھیجیں