محترم ڈاکٹر منظور احمد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍مئی2008ء میں محترم چوہدری شبیر احمد صاحب کے قلم سے پشاور کی جماعت کے ایک بزرگ محترم ڈاکٹر منظور احمد صاحب آف بازیدخیل کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے جو کچھ عرصہ بعارضہ فالج صاحب فراش رہنے کے بعد 19؍ دسمبر 2007ء کو وفات پاگئے۔ تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔ آپ کی اولاد میں آٹھ بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
خاکسار کو جماعتی دوروں کے سلسلہ میں پشاور جانے کا موقع ملتا تو محترم ڈاکٹر صاحب کی مالی قربانیوں کے باعث ان سے خصوصی ملاقات بھی پروگرام میں شامل ہوتی۔ پہلے آپ بازیدخیل میں رہتے تھے پھر پشاور منتقل ہوگئے۔ عوام میں قادیانی ڈاکٹر کے تعارف سے پہچانے جاتے تھے۔ان کے کلینک میں مریضوں کی غیرمعمولی کثرت دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔ کیونکہ ان کی مخالفت کی ہمہ گیر کوشش جاری رہتی تھی لیکن بحیثیت معالج آپ کے ہاتھ میں شفا مقبول عام تھی۔
آپ پر تین مرتبہ قاتلہ حملہ ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا۔ حالانکہ ایک مرتبہ تو آپ پر پندرہ بیس گز کے فاصلہ سے فائر کیا گیا۔ مخالفت کی شدت کا یہ حال تھا کہ آپ کے ایک داماد محترم ڈاکٹر افضال احمد صاحب کو بھی فائر کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ جس کے جواب میں آپ نے فقط یہ کہا کہ میرا بدلہ اللہ تعالیٰ لے گا ۔اور ایسا ہی ہوا کہ قاتل کو کچھ عرصہ بعد اُس کے کسی دشمن نے فائر کرکے ہلاک کردیا۔
محترم ڈاکٹر صاحب بڑے فیاض انسان تھے اور مہمان نوازی میں بھی ایک بلند مقام رکھتے تھے۔ سلسلہ کی مالی قربانیوں میں بھی ان کو نمایاں حیثیت حاصل رہی۔
1934ء میں تحریک جدید جاری ہوئی تو آپ ایک احمدی ڈاکٹر کے ہاں ملازم تھے اور معمولی گزارہ کی رقم ملا کرتی تھی۔ آپ نے تحریک جدید میں پانچ روپیہ کی قربانی پیش کی۔ یہ رقم بھی آپ کی مالی حیثیت سے زیادہ تھی لیکن کچھ عرصہ بعد خیال آیا کہ 50/- روپیہ پیش کرنا چاہئے۔ سو آپ نے اپنا وعدہ پچاس روپیہ کردیا۔ اگلے روز جب کلینک پہنچے تو ان کے مالک ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آج سے آپ کا ماہانہ معاوضہ پچاس روپیہ کیا جاتا ہے۔ پھر نئے سال کے اعلان پر انہیں خواہش پیدا ہوئی کہ اس سال 100 روپیہ پیش کیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا اور اگلے روز جب اپنی ڈیوٹی پر پہنچے تو ان کے مالک ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آج سے آپ کا ماہانہ معاوضہ یکصد روپیہ کیا جاتا ہے۔ ان کی تنخواہ میں یہ اضافے بغیر کسی درخواست کے ہوئے تھے اور یہی وجہ تھی کہ یکصد روپیہ بڑھتے بڑھتے اب لاکھوں تک پہنچ گیا ہے۔
محترم ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اپنی اولاد پر بڑا نیک اثر چھوڑا ہے۔ ان کے ایک بیٹے نے ایک مرتبہ بتایا کہ میں والد صاحب کے ساتھ کلینک میں کام کرتا ہوں میرا مشاہدہ ہے کہ والد صاحب مالی قربانی میں جتنا اضافہ کرتے ہیں اتنی ہی کثرت سے مریض آتے ہیں۔ مرحوم مکرم محمود احمد خانصاحب کارکن حفاظت خاص لندن کے والد تھے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/yQnqJ]

اپنا تبصرہ بھیجیں