مکرم مبارک علی اعوان صاحب شہید

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 3 جولائی 2020ء)

لجنہ اماء اللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ (شہداء نمبر۔ شمارہ2۔2010ء) میں مکرم مبارک علی اعوان صاحب شہید کا ذکرخیر اُن کی بھتیجی مکرمہ فرزانہ منور صاحبہ اور شہید مرحوم کی ہمشیرہ مکرمہ نصرت مشتاق صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
مکرم مبارک علی اعوان صاحب کے دادا حضرت میاں نظام الدین صاحبؓ اور والد محترم عبدالرزاق صاحب تھے۔ شہید مرحوم کی اہلیہ مکرمہ ناصرہ بیگم صاحبہ کے والد حضرت مولوی محمد اسحاق صاحبؓ تھے جنہوں نے خسوف و کسوف کا نشان ظاہر ہونے کے بعد اپنی والدہ کے کہنے پر مہدی کی تلاش شروع کی اور پھر قادیان جاکر بیعت کی سعادت حاصل کی۔حضرت مولوی صاحبؓ کی تبلیغ سے ہی حضرت میاں نظام الدین صاحبؓ نے بھی احمدیت قبول کی۔
محترم عبدالرزاق صاحب کا خاندان ضلع لاہور کے گاؤں لدھیکے نیویں میں آباد ہوا۔ ان کی اہلیہ نے گاؤں کے سینکڑوں بچوں اور بڑوں کو قرآن کریم پڑھایا۔ انہیں گاؤں میں بے بے جی کہا جاتا تھا۔ ان کے ہاں چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں جن میں سے مکرم مبارک علی اعوان صاحب کا نمبر پانچواں تھا جو 1951ء میں پیدا ہوئے۔ گاؤں میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے بڑے بھائی مکرم منور احمد اعوان صاحب کے پاس سرگودھا چلے گئے اور میٹرک تک وہیں رہے۔ پھر واپس گاؤں آگئے اور قصور میں تعلیم جاری رکھتے ہوئے بی اے اور بی ایڈ کیا۔ پھر شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوگئے۔ بوقت شہادت بھی قصور میں رہائش تھی اور سکول میں پڑھانے کے لیے روزانہ لاہور جایا کرتے تھے۔
1974ء میں جب فسادات پھوٹے تو مکرم مبارک علی صاحب قصور میں زیرتعلیم تھے۔ شدید مخالفت کے دنوں میں ایک روز گھر آکر اپنی والدہ سے کہنے لگے کہ بے بے جی! ہم دل سے احمدی مسلمان ہیں ہی، اگر مَیں اوپر اوپر سے کہہ دوں کہ مَیں صرف مسلمان ہوں تو اتنی مشکلات کا سامنا تو نہ کرنا پڑے گا۔ آپ کی والدہ نے یہ سنا تو کوئی جواب دیے بغیر زاروقطار رونے لگیں اور دعا کرنے لگیں کہ اے مولیٰ! اگر صحابہ کی نسل کے دل میں دین کی مخالفت کے خوف سے ایمان کی کمزوری پیدا ہونی ہے تو تُو انہیں اپنے پاس بلالے، میرے بچوں کو میرے سے پہلے اُٹھالے۔ اس سے پہلے بے بے جی کو نماز کے علاوہ کبھی روتے نہ دیکھا تھا۔ اس کے بعد ایک ہفتے تک مکرم مبارک علی صاحب اپنی والدہ کو مناتے اور معافیاں مانگتے رہے تب وہ راضی ہوئیں۔
شہید مرحوم کے دل میں خلقِ خدا کی مدد کا جذبہ موجزن رہتا تھا۔کہا کرتے تھے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ تو لوگوں کے کام لے کر راجہ کے پاس چلے جاتے کہ سب کا یا کسی ایک کا بھی کام بن جائے۔ مَیں بھی یہی سوچ کر لوگوں کے ساتھ چل پڑتا ہوں کہ کام تو ربّ نے ہی کرنا ہے، میرا کام تو ہمّت بڑھانا ہے۔
شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ شہادت سے کچھ دن پہلے کہنے لگے کہ دنیا سے دل بھرگیا ہے، اب تو دل کرتا ہے کہ جنّت میں ہی چلاجاؤں۔ اہلیہ نے ازراہ مذاق کہا کہ جنّت میں جانے کا زادراہ اکٹھا ہوگیا ہے؟ تو جواب دیا کہ کوشش تو کی ہے آگے میرے سوہنے کی مرضی!
شہید مرحوم کے بڑے بھائی ایک عرصے سے فالج کا شکار ہیں اور اُن کی اہلیہ بھی وفات پاچکی ہیں۔ اپنے گھر کے علاوہ اپنے بھائی کے گھر کی کفالت بھی شہید مرحوم ہی کررہے تھے۔
شہید مرحوم بہت مہمان نواز تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ سب بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دی اور بہت کوشش کی۔ 28؍مئی 2010ء کو آپ کے سکول میں جلدی چھٹی ہوگئی تو آپ نے دارالذکر لاہور میں ہی جمعہ پڑھ کر پھر قصور واپس جانے کا پروگرام بنایا۔ جب دہشتگردوں نے حملہ کیا تو آپ سے فون پر رابطہ ہوا۔ بعد میں آپ کے زخمی ہونے کا علم ہوا اور پھر شہادت کی اطلاع ملی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں