مکرم ناصر احمد صاحب ظفر بلوچ

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 12؍فروری 2021ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍فروری 2013ء میں مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب کے قلم سے مکرم ناصر احمد ظفر بلوچ صاحب کی یاد میں ایک مختصر مضمون شامل اشاعت ہے۔
1947ء میں تقسیمِ ہند کے بعد سیدنا حضرت مصلح موعودؑ نے جماعت احمدیہ غوث گڑھ ریاست پٹیالہ کو ازراہِ شفقت یہ حکم دیا کہ وہ احمدنگر ضلع جھنگ میں آباد ہوں۔ چنانچہ وہاں کی ساری جماعت نے تعمیلِ ارشاد میں احمدنگر میں ڈیرے ڈال دیے۔جامعہ احمدیہ کو بھی حضورؓ نے احمدنگر میں قائم کرنے کا حکم دیا۔ مولانا ظفر محمد ظفر صاحب جامعہ احمدیہ کے پروفیسر تھے اور احمدنگر کے دھرم سالہ کی عمارت میں یہ اپنے بچوں سمیت اقامت پذیر تھے۔ ان کے بچوں میں سے مکرم برادرم ناصر احمد ظفر صاحب میرے ہم عمر تھے۔ مسجد میں،کھیل کے میدان میں اور احمدنگر کی گلی کوچوں میں اکثر ان سے ملاقات ہوتی۔ کشادہ پیشانی اور آنکھوں کی چمک ان کی ذہانت کی غماز تھی۔ مجلس اطفال الاحمدیہ احمدنگر میں اکثر ان کے جوہر کھلتے۔اطفال کے اجلاسات یا کھیل کے میدان میں اکثر لیڈر کے طور پر پہچانے جاتے۔ میٹرک پاس کیا تو ملازمت کی تلاش ہوئی۔آخر ایک یونین کونسل میں سیکرٹری کے طور پر ان کی تقرری ہوگئی۔ یہاں سیاسی لوگوں سے ان کے رابطے ہوئے۔ اپنی خداداد قابلیت سے بہت جلد ان میں اپنا مقام بنا لیا۔
حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ اپنی خلافت سے پہلے مجلس انصاراللہ عالمگیر کے صدر تھے۔ میرا اپنے فرائض منصبی کے سلسلے میں قریباً ہر روز ہی آپؒ سے ملنا ہوتا۔ ربوہ کے ماحول پر آپؒ کی گہری نظر تھی اور جو آپؒ کے ساتھ گفتگو ہوتی تو خاکسار محسوس کرتا کہ سیاسی اور غیراز جماعت لوگوں سے رابطہ کے حوالے سے شاید مکرم ناصر احمد ظفر صاحب بہتر خدمت کرسکتے ہیں۔ میں نے حضرت میاں صاحبؒ سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا مجھے اس سے ملائیں۔ چنانچہ اگلے ہی روز میں ان کو ساتھ لے کر حضرت میاں صاحبؒ سے ملا۔ ناصر صاحب سے مل کر حضورؒ نے خوشی کا اظہار فرمایااورارشاد فرمایا کہ گاہے گاہے ملتے رہیں۔
جب خادم اپنے آقا کے حضور حاضر ہو گیا تو زمین زرخیز تھی اس لیے بہت جلد حضوؒر کا اعتماد حاصل کر لیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اعتماد میں اضافہ ہوتا گیا اور ربوہ کے معاملات مکرم ناصر ظفر صاحب اور چوہدری عبدالکریم صاحب نمبردار احمدنگر کے ذریعہ طے پانے لگے۔
مکرم ناصر احمد ظفر صاحب سالہا سال احمدنگر کے صدر رہے۔ احمدنگر میں احمدی افراد سے ذاتی تعلق رکھتے تھے۔ ان لوگوں کے ساتھ ان کے ذاتی مراسم تھے۔ احمدنگر کی نصف آبادی احمدیوں پر مشتمل تھی۔ خاندان حضرت مسیح موعودؑ اور کئی دوسرے احمدیوں کی زمینیں اور جائیدادیں احمدنگر میں ہونے کی وجہ سے نا مساعد حالات کے باوجود بھی کبھی کسی سے دبنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اورجب تک جماعت کو ووٹ کا حق حاصل رہا حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور چوہدری عبدالرحمان صاحب، بی ڈی ممبر منتخب ہوتے رہے۔ علاقہ بھر کے ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی اور بی ڈی ممبران سے مکرم ناصر ظفر صاحب کے ذاتی مراسم تھے۔ انہوں نے خلافت احمدیہ سے کوئی مدد لینا ہوتی یا جماعت پر کسی ابتلا کے وقت اپنی ہمدردی ظاہر کرنا ہوتی تو ناصر صاحب مرحوم ذریعہ بنتے۔
مکرم ناصر صاحب انصاف پسند واقع ہوئے تھے۔ مشکل کے وقت لوگوں کے کام کرنا۔ پولیس وغیرہ کے معاملات میں ان کی مدد کرنے کا جذبہ بدرجہ اتم ان میں موجود تھا۔ جماعتی مفاد میں پولیس کے ساتھ ان کے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ربوہ میں ان کی رہائش بھی پولیس تھانہ کے قریب ہی واقع تھی۔ اس لیے ان کے نخرے اٹھانا اور ان کی ذاتی ضروریات کو پورا کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
ایک دفعہ احمدنگر میں بچوں میں جھگڑا ہوا جس میں ان کا اپنا بھی ایک بیٹا ملوث تھا۔انہوں نے ایثار کا نمونہ اختیار کرتے ہوئے بھری مجلس میں اپنے بیٹے عزیز مبشر احمد صاحب کو حکم دیا کہ قطع نظر اس کے کہ وہ قصور وار ہے یا نہیں دوسرے لڑکوں سے اظہار معذرت کرے اور معافی مانگے اور مبشر نے ایسا ہی کیا۔ اس سے ناصر ظفر صاحب کی انکساری اور انصاف پروری کا پتہ چلتا ہے۔
حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے ساتھ بھی مکرم ناصر صاحب کا خادمانہ سلوک آخر تک قائم رہا اور اسی تسلسل میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب (خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ)سے بھی خادمانہ تعلقات استوار رہے۔ ایک دفعہ حضورانور کے ڈیرے سے آپ کی ایک قیمتی گائے چوری ہوگئی۔ گائے کی قیمت سے زیادہ اصل جانور کا معاشرے کی ریت میں واپس لانا مطلوب تھا۔ کام کٹھن تھا کیونکہ وہاں چوری شدہ جانور اصل شکل میں مڑوانا ایک مشکل امر ہے۔ یہ کام مکرم ناصر ظفر صاحب اور نمبردار عبدالکریم صاحب کے سپرد ہوا۔ ان دونوں نے دن رات ایک کر دیا اور گائے واپس لاکر اپنے آقا کی دعائیں حاصل کیں۔
آپ کو اپنی ملازمت سے ریٹائر ہونے پر نظارت امورعامہ اور پھر دفترصدرعمومی میں خدمات کا موقع ملا۔ افراد جماعت کے تنازعات نمٹانا آپ کی ذمہ داری ٹھہری۔ آپ نے ہمیشہ اپنی خداداد صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے پہلے صلح کروانے کو ترجیح دی اور تنازع کے فیصلے کی صورت میں انصاف اور عدل کو مدّنظر رکھا۔
آپ کی صحت آخر تک اچھی دکھائی دیتی تھی۔صبح کی سیر کے عادی تھے،کبھی پیدل اور کبھی سائیکل پر سیر کے لیے نکلتے۔ سرِراہ ملاقات ہوتی تو مسکراتے چہرے سے ملتے۔

روشنی میں تو پہنچ جا منزل مقصود تک
اے مسافر ڈھل رہا ہے آفتاب زندگی

100% LikesVS
0% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں