یورینس (Uranus)

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن یکم جنوری 2021ء)

نظام شمسی کا ساتواں سیارہ یورینس ہے جو رات کے وقت آسمان پر نہایت مدھم دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بارے میں ایک مختصر معلوماتی مضمون عزیزم خاقان احمد کے قلم سے ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ نومبر 2012ء کی زینت ہے۔
1781ء میں یورینس کو بطور ستارہ شناخت کیا گیا جبکہ اس کے گرد بنے ہوئے حلقوں (Ring System) کی دریافت قریباً دو سو سال بعد 1977ء میں ہوئی۔ اس کے گرد موجود 11 حلقے کسی تاریک رَنگ کے مادے پر مشتمل ہیں۔ یہ مادہ ابھی نظام شمسی میں کسی اَور جگہ دریافت نہیں ہوا۔ ایک تحقیقی خلائی جہاز Voyager II کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ یورینس کے کم از کم پندرہ چاند ہیں۔ ان چاندوں کے نام شکسپیرکے ڈراموں کے کرداروں پر رکھے گئے ہیں۔
یورینس کا سورج سے فاصلہ قریباً تین ملین کلومیٹر ہے۔ اس کی سطح کا درجہ حرارت منفی 224 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ زمینی وقت کے مطابق یہ 84سال میں سورج کے گرد ایک چکر پورا کرتا ہے۔ سورج کی روشنی اس کی سطح پر پہنچتے اڑھائی گھنٹے سے زیادہ وقت لیتی ہے جبکہ زمین پر یہ روشنی 8منٹ بیس سیکنڈ میں پہنچ جاتی ہے۔ اس کی سطح کی بہت کم تفصیلات مہیا ہیں۔ کلوزاَپ تصاویر میں بھی صرف منجمد میتھین گیس کے چند بادل ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی فضا میں موجود میتھین گیس سرخ روشنی کو جذب کرلیتی ہے اور اس طرح یہ سیارہ نیلے رنگ کا نظر آتا ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/LJKQE]

اپنا تبصرہ بھیجیں