کنسائی ایئرپورٹ جاپان

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم نومبر 2006ء میں جاپان کے کنسائی ایئرپورٹ کے بارہ میں مکرم سرفراز احمد عدیل صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ کنسائی ائیرپورٹ جاپان کو بلاشبہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ائیرپورٹ جو سمندر میں بنایا گیا ہے لیکن آہستہ آہستہ سمندر میں ڈوب رہا ہے۔…

جاپان کا ایک دلچسپ سفر

مجلس انصاراللہ کینیڈا کے جریدہ ’’نحن انصاراللہ‘‘ جولائی تا ستمبر 2006ء میں مکرم کرنل (ر) دلدار احمد صاحب کے قلم سے جاپان کا ایک دلچسپ سفرنامہ شامل ہے۔ 1904ء تک جاپان کی بطورِ ایک عالمی طاقت کوئی اہمیت نہ تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ کو29 اپریل 1904ء کو الہام ہوا: ’’کوریا خطرناک حالت میں ہے ۔…

پمپائے (Pompeii)

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق پمپائے کا شمار اہم ترین آثار قدیمہ میں ہوتا ہے۔قریباً دو ہزار سال پہلے 79ء میں ایک آتش فشاں کی زد میں آکر مٹی میں دب کر منجمد ہونے سے قبل ایک کامیاب شہر تھا۔ پمپائے کی بنیاد روم سے ڈیڑھ سو میل جنوب مغرب میں آٹھویں صدی قبل مسیح…

ملاوی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍اگست 2005ء میں وسطی افریقہ کے ملک ملاوی کا تفصیلی تعارف شامل اشاعت ہے۔ ملاوی ایک چھوٹا سا ملک ہے اور سارا سطح مرتفع کہلاتا ہے۔ زمین پتھریلی۔ مٹی کالی اور سرخی مائل ہے۔ اس مٹی میں خوبصورت رنگوں میں پتھر بکھرے پڑے ہیں۔ ملاوی ایک سر سبز وشاداب ملک ہے۔ ہر…

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا دورۂ انڈونیشیا

جماعت احمدیہ برطانیہ کے ’’سیدنا طاہرؒ سووینئر‘‘ میں مکرم بشیر احمد صاحب کے قلم سے حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے تاریخی دورۂ انڈونیشیا کا حال رقم ہے جو کہ کسی بڑے مسلمان ملک کا کسی خلیفہ وقت کا پہلا دورہ تھا۔ مؤرخہ 19 جون 2000ء کو حضور انوررحمہ اللہ مع قافلہ براستہ ہالینڈ، انڈونیشیا کے لئے…

پیسا کا مینار

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ اپریل 2005ء میں ایک مختصر معلوماتی مضمون (مرسلہ: صادقہ سلام) میں اٹلی کے پیسا مینار سے متعلق دلچسپ معلومات پیش کی گئی ہیں۔ اٹلی کے ایک شہر کا نام پیسا ہے جس کی شہرت اُس مینار کی وجہ سے ہے جو ایک طرف کو جھکا ہوا ہے۔ اس مینار کی بنیاد جس…

قبائل عاد اور ثمود

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا اپریل 2004ء میں مکرم ڈاکٹر میاں محمد طاہر صاحب کا ایک تحقیقی مضمون شامل اشاعت ہے جس میں عاد اور ثمود قوموں کے بارہ میں قرآنی تعلیمات کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔ عاد اور ثمود نامی قوموں کا ذکر قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر آیا ہے۔ بعض آیات…

لندن کی سیر

انگریزوں کا دعویٰ ہے کہ آثار قدیمہ کے شواہد بتاتے ہیں کہ لندن قدیم رومی دور میں بھی ایک سرگرم مرکز تھا۔ یہ چھوٹا سا گاؤں صدیوں پہلے دریائے ٹیمز کے کنارے اس طرح بسایا گیا کہ دریا ایک طرف سے اس کی حفاظت کرتا تھا۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍جولائی 2004ء میں لندن کے بارہ…

بغداد

اسلامی حکومت کے پانچ سو سال تک مرکز رہنے والے شہر بغداد سے متعلق ایک تفصیلی مضمون مکرم محمد زکریا ورک صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16 و 17؍اپریل 2003ء میں شامل اشاعت ہے۔ زمانہ قدیم میں عراق کو میسوپوٹیمیا کہا جاتا تھا اور دریائے دجلہ و فرات کے درمیانی علاقہ کو Fertile…

بھیرہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے کوہستان نمک کے دامن میں دریائے جہلم کے کنارے پر ایک قدیم قصبہ بھیرہ آباد ہے۔ ایک مؤرخ کے مطابق اس کا نام راجہ بھدراسین کے نام پر بھدروی نگر یا بھدرواتی نگر تھا۔ العتبی نے اس کا ذکر بَتْیَہ یا بھدیہ کے نام سے کیا ہے۔ سکندراعظم کے…

کوہستانِ نمک – کھیوڑہ

کوہستان نمک (کھیوڑہ) کی سترہ منزلہ اور 120؍کلومیٹر لمبی کان سطح سمندر سے نو سو فٹ بلند ہے۔ اس میں دنیا کا 80فیصد قدرتی نمک پایا جاتا ہے۔ یہ 260؍کلومیٹر لمبے اور 16؍کلومیٹر چوڑے پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے اور 327؍ق۔م پرانی ہے۔ صدیوں سے یہاں سے نمک کی پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔ سکندراعظم…

وادیٔ کیلاش – پاکستان

ہفت روزہ ’’سیرروحانی ‘‘ اگست 2000ء میں پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع وادیٔ کیلاش (چترال) کے بارہ میں معلوماتی مضمون مکرم منصور نورالدین صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ اس وادی کو چاروں طرف سے ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے نے گھیر رکھا ہے جسے مختلف درّے سوات، گلگت اور دیگر علاقوں سے…

جزیرہ طوالو

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 18؍ستمبر 2000ء میں مکرم قمرداؤد کھوکھر صاحب کے قلم سے جزیرہ طوالو کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ چند چھوٹے چھوٹے جزائر کے مجموعہ کا نام طوالو ہے۔ یہ ملک آسٹریلیا سے آگے بین الاقوامی ڈیٹ لائن کے پاس واقع ہے۔ یہ یکم اکتوبر1978ء کو آزاد ہوا۔ اس کارقبہ 24مربع…

مارکوپولو

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍اگست 1999ء میں مکرم وقاص احمد خان صاحب کے قلم سے مارکو پولو کے بارہ میں ایک مختصر مضمون شائع ہوا ہے۔ مارکوپولو 1254ء میں اٹلی کے شہر وینس میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ نیکولو پولو تاجر تھا جو 1260ء میں اپنے بھائی میفیو پولو کے ساتھ خان اعظم قبلائی خان…

دنیا کی بلند ترین قبر

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍جولائی 1999ء میں مکرم منصور احمد صاحب اپنے معلوماتی مضمون میں رقمطراز ہیں کہ 1935ء میں سر ایڈمنڈ ہیلری نے ماؤنٹ ایورسٹ کو جنوبی طرف سے پہلی مرتبہ سر کیا لیکن اس سے پہلے 1924ء میں دو کوہ پیما چارج میلوری اور اینڈریو ارون شمال مشرقی سمت سے چوٹی کو سر کرتے…

حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کا احمدی انجینئرز سے خطاب

ٹیکنیکل میگزین 1999ء کے اردو حصہ کا آغاز سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے اُس خطاب سے ہوتا ہے جو آپؒ نے 30؍اکتوبر 1980ء کو ایسوسی ایشن کے اجتماع سے فرمایا تھا۔ حضورؒ نے اس میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں جو مختلف قوانین جاری کئے ہیں ان میں سے بعض کو لے…

ہڑپہ کے آثارِ قدیمہ

ایک ماہر آثار قدیمہ جوناتھن مارک کی تحقیق کے مطابق ہڑپائی تہذیب بلوچستان کے بالائی علاقوں سے شروع ہوکر مغرب تک اور شمالی پاکستان، افغانستان اور انڈیا سے جنوب مغرب اور شمال تک پھیلی ہوئی تھی اور دو بڑے دریا سندھ اور گھاگر اسے سیراب کرتے تھے- یہ تہذیب قدیم مصری تہذیب موسوپوٹامیہ (عراق) کی…

ہرن مینار شیخوپورہ

لاہور سے پچیس میل کے فاصلہ پر شیخوپورہ کا شہر آباد ہے جسے مغلیہ دور میں جہانگیر پور اور جہانگیر آباد بھی کہا جاتا تھا- یہ جہانگیر کی محبوب ترین شکارگاہ تھی اور یہاں اُس نے اپنے ایک منس راج نامی محبوب ہرن کی قبر پر ایک مینار تعمیر کروایا تھا اور ہرن کا شکار…

قلعہ بالا حصار پشاور

بالاحصار فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اونچی جگہ یا بلند قلعہ- روایت ہے کہ یہ نام اس افغان بادشاہ تیمور نے دیا تھا جسے سکھوں نے سمیرگڑھ سے بدل دیا لیکن اِس نام نے شہرت نہ پائی- یہ قلعہ دو سے اڑہائی ہزار سال پرانا ہے اور اس کی ابتدائی تاریخ…

موتی مسجد

موتی مسجد لاہور اگرچہ رقبہ کے لحاظ سے چھوٹی ہے لیکن خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے- اسے 1753ء میں نواب میر سید بھکاری خان نے تعمیر کروایا تھا جو لاہور کے وائسرائے میر منو کے درباری تھے اور پھر پنجاب کے نائب صوبیدار بنائے گئے- وہ ایک دیندار، سخی، عالم فاضل اور فقیر دوست…

مقبرہ نور جہاں لاہور

ایک ایرانی نژاد مرزا غیاث بیگ نے افلاس سے تنگ آکر ایران سے ہجرت کی اور ہندوستان آکر دربارِ اکبری سے وابستہ ہوگیا- اُس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام مہرالنساء تھا جس نے تاریخ میں نورجہاں کے نام سے شہرت پائی- اُس کی پہلی شادی ایک ایرانی باشندے شیرافگن سے ہوئی جس کا…

شاہی قلعہ لاہور

لاہور کا شاہی قلعہ پاکستان میں موجود مغلیہ دور کے آثار میں سے ایک عظیم الشان یادگار ہے- اس کا طول 1500؍ فُٹ اور عرض 1200؍ فُٹ ہے- اس بارے میں ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍ اگست 1998ء میں مکرم شمشاد احمد قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے- اس قلعے کی بنیاد…

مقبرہ جہانگیر لاہور

مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر اعظم کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا- 1605ء میں تخت نشین ہوا اور قریباً ساڑھے اکیس سال نہایت شان سے حکومت کرکے 8؍نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا-…

مسجد وزیرخان لاہور

اپنی بے پناہ خوبصورتی، وسعت اور نقش و نگار کے باعث فنّی اعتبار سے نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھی جانے والی مسجد وزیر خان لاہور کی بنیاد چنیوٹ کے رہنے والے شیخ علیم الدین نے رکھی تھی جو ایک طبیب تھے اور شاہجہان کے دربار میں رفتہ رفتہ وزیر کے عہدے تک جا پہنچے…

بادشاہی مسجد لاہور

برصغیر میں مسلمانوں کی تعمیراتی تاریخ میں اہم اور پرشکوہ عمارات سب سے پہلے بھنبھور میں تعمیر ہوئیں جو محمد بن قاسم کی آمد سے مرکز اسلام بنا تھا۔ بعد ازاں یہ سلسلہ جاری رہا۔ 1674ء میں مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے لاہور میں بادشاہی مسجد تعمیر کروائی جسے ماہرینِ تعمیرات برصغیر میں مساجد…

گھانا میں غلاموں کی تجارت

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 14 دسمبر 2018ء) روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ24؍اکتوبر 2012ء میں مکرم فرید احمد نوید صاحب کے قلم سے ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں گزشتہ صدیوں میں گھانا سے غلاموں کی تجارت کی دلخراش داستان بیان کی گئی ہے۔ گھانا کی ساحلی پٹی جو آج خوبصورت ریستورانوں اور resorts سے بھری ہوئی ہے…