روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍جولائی 2008ء میں مکرم عبدالرحمن ساہی صاحب اپنے دادا مکرم چودھری محمد حنیف ساہی صاحب کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ 1939ء میں ایک چھوٹے سے گاؤں قادر آباد (نزد گوجرہ) میں صوبیدار میجر عبدالقادر صاحب فوج سے ریٹائرڈ ہوکر آئے تو کچھ روز بعد اُن کے احمدی ہوجانے کا علم ہوا۔ یہ […]
ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ۔ اکتوبر، نومبر 2008ء میں دو خواتین نے احمدیت کی آغوش میں آنے کی وجہ سے اپنی زندگیوں میں پیدا ہونے والی ایمان افروز تبدیلی کا ذکر کیا ہے۔ مکرمہ سائرہ احمد صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ میرے والد چرچ میں پادری تھے اور میں وہیں پلی بڑھی۔ وہ مجھے کہا کرتے تھے […]
سہ ماہی ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا جولائی تا ستمبر 2008ء میں مکرم منیر احمد ملک صاحب نے اپنی والدہ محترمہ زہرہ بیگم صاحبہ کا ذکرخیر کیا ہے جن کی وفات 90 سال کی عمر میں 30مارچ 2003ء کو لاہور میں ہوئی اور تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔ محترمہ زہرہ بیگم صاحبہ کا تعلق چکوال کے […]
حضرت مسیح موعودؑ کی کتب میں مرقوم معروف سیکھوانی برادران کی بہن حضرت امیر بی بی صاحبہؓ عرف مائی کاکو کا ذکر خیر روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20اگست 2008ء میں مکرمہ الف۔ منان قمر صاحبہ کے قلم سے شائع ہوا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ اس خاندان کا فدائیانہ تعلق تھا اور دعویٰ ماموریت سے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ8جولائی 2008ء میں مکرم اقبال احمد نجم صاحب کے قلم سے محترم سید محمود احمد صاحب آف برازیل کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ مکرم سید محمود احمد صاحب سے میری پہلی ملاقات 22جولائی 1985ء کو ہوئی جب خاکسار حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے ارشاد پر برازیل میں احمدیہ مشن کے قیام کا جائزہ لینے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍اگست 2008ء میں مکرم ضیاء الدین ضیاء صاحب نے اپنے مضمون میں کشمیر کے پہلے مربی سلسلہ حضرت حکیم مولوی نظام الدین صاحبؓ کا تفصیلی ذکرخیر کیا ہے۔ مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میرے والد حضرت حکیم مولوی نظام الدین صاحبؓ 1885ء میں ایک معزز زمیندار گھرانے میں محترم چوہدری عبدالکریم صاحب […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍جولائی 2008ء میں حضرت میاں خیرالدین صاحبؓ کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ حضرت میاں صاحبؓ جنوری 1889ء میں قادرآباد (متصل قادیان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت میاں محمد بخش صاحبؓ ابتداء میں ہی احمدی ہوگئے تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے جب میں نجاری کا کام سیکھنے لگا تو حضورؑ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍مئی 2008ء میں مکرم حوالدار عبدالخالق صاحب کے قلم سے اپنے چچا محترم حکیم محمد یار صاحب کا ذکر خیر شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں آپ کا مختصر ذکرخیر 9؍ستمبر 2009ء کے اخبار میں اسی کالم میں بھی کیا جاچکا ہے۔ محترم حکیم محمد یار صاحب 1937ء میں ضلع جھنگ کے ایک […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍جولائی 2008ء میں مکرم فضل الرحمن عامر صاحب کے قلم سے اُن کی والدہ محترمہ نسیمہ رحمن دہلوی صاحبہ اہلیہ مکرم عبدالرحمن صاحب دہلوی کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ محترمہ نسیمہ رحمن صاحبہ نے قریباً 16سال کی عمر میں تن تنہا اترپردیش سے قادیان تک کا طویل سفر محض احمدیت قبول کرنے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍مئی2008ء میں مکرم ڈاکٹر احسان اللہ قریشی صاحب نے اپنے والد محترم قریشی محمد عبداللہ صاحب کا ذکرخیر کیا ہے۔ محترم قریشی محمد عبداللہ صاحب قادیان کے قدیمی رہائشی حضرت قریشی شیخ محمد صاحبؓ کے ہاں 1913ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش سے پہلے جو اولاد ہوتی تھی وہ جلد فوت […]
رسالہ ’’الھدیٰ‘‘ سویڈن کے شمارہ اگست تا اکتوبر 2008ء میں مکرم مامون الرشید ڈوگر صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کی چند خوبصورت یادوں کو بیان کیا ہے۔ حضور انورؒ کی احمد نگر میں زرعی زمین ہمارے ساتھ تھی اور اس طرح اکثر ملاقات کا موقع بھی مل جاتا کیونکہ آپؒ (خلافت سے قبل) […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍اپریل 2008ء میں مکرم محمد اسلم صاحب نے ربوہ میں لنگرخانوں میں روٹی پلانٹ کی تنصیب کی تاریخ بیان کی ہے جس میں حضرت میر داؤد احمد صاحب (افسر جلسہ سالانہ) اور احمدی انجینئرز کی ناقابل فراموش خدمات سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ 1968ء میں لنگر نمبر 1 دارالصدرمیں گیس لگ گئی […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍مارچ 2008ء میں مکرمہ ع۔ ص صاحبہ نے اپنے والد محترم ملک محمود احمد صاحب آف لاہور کا ذکرخیر کیا ہے۔ مکرم ملک محمود احمد صاحب 1923ء میں کھارا میں پیدا ہوئے۔ آپ پیدائشی احمدی تھے۔ بیس سال تک سیکرٹری ضیافت کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ قرآن و حدیث کا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍مارچ 2008ء میں مکرم عبدالقدیر قمر صاحب کے قلم سے محترم محمد یار صاحب کا ذکرخیر شائع ہوا ہے۔ محترم میاں محمد یار صاحب ولد میاں شیر محمد صاحب سکنہ سلانوالی 24؍ ستمبر 2007ء کو وفات پاگئے۔ اونچا لمبا قد، بارعب چہرہ، احمدیت کا چلتا پھرتا نمونہ، نہایت صلح جو اور دعوت […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍جنوری 2008ء میں مکرمہ ب۔ م سید صاحبہ اپنی والدہ محترمہ استانی زبیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم بشیر احمد صاحب شمس کا ذکر خیر کرتی ہیں جو 17؍جولائی 2007ء کو قریباً 80 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ آپ 29؍مئی 1928ء کو گجرات کے گاؤں رجوعہ میں پیدا ہوئیں۔ والد حکیم غلام […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍اپریل 2009ء میں محترم مولانا محمد شفیع اشرف صاحب کا ذکرخیر اُن کی بیٹی مکرمہ راشدہ فہیم صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں آپ کی سوانح اور شاعری کے بارہ میں ایک مضمون 16؍اکتوبر 1998ء کے اخبار میں الفضل ڈائجسٹ کی زینت بن چکا ہے۔ مضمون نگار بیان کرتی […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ سالانہ نمبر 2007ء میں مکرم مقبول احمد صدیقی صاحب کے قلم سے سورۃ فاتحہ کی عظمت اور برکات کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ سورۃالفاتحہ سارے قرآن کا خلاصہ ہے۔ رسول کریم ﷺ نے اس سورۃ کو اس کی عظمت کے لحاظ سے کئی نام دیئے ہیں جن سے اس […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍جولائی 2007ء میں مکرم محمد افضل ظفر صاحب کے قلم سے حضرت مولوی ابوالعطاء جالندھری صاحب کی سیرۃ کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حضرت مولوی صاحب کو قرآن کریم سے عشق تھا۔ سفر میں اکثر وقت تلاوت یا مسنون دعاؤں کے ورد میں گزرتا۔ رمضان میں اپنے آرام کا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍دسمبر 2007ء میں مکرمہ ط۔- شکیل صاحبہ اپنے والد محترم ضیاء الدین حمید ضیاء صاحب کی زندگی سے چند اہم واقعات پیش کرتی ہیں۔ محترم ضیاء الدین صاحب 12؍ جولائی 1927ء کو یاری پورہ کشمیر میں حضرت حکیم نظام الدین صاحبؓ (سابق مربی کشمیر) کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ احمدیہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ 12؍جولائی 2007ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے حضرت قاضی غلام مرتضیٰ صاحبؓ کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ حضرت قاضی غلام مرتضیٰ صاحب کا اصل وطن احمدپور سیال ضلع جھنگ تھا۔ آپ کے والد محترم کا نام قاضی محمد روشن دین صاحب تھا۔ جن دنوں حضرت مسیح موعودؑ نے ’’براہین […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍جولائی 2007ء میں محترم ثاقب زیروی صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خانصاحبؓ کی سیرۃ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ٭ ستمبر 1974ء میں جماعت احمدیہ کے متعلق آئین میں ترمیم کا اعلان ہوا تو دل چاہتا تھا کہ معاملہ گو مگو […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍جولائی2007ء میں مکرم پروفیسر راجا نصر اللہ خان صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں دعا کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (اے رسول) تو ان سے کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے اگر تمہاری طرف سے دعا (اور استغفار) […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں میاں محموداحمد صاحب سابق صدر خدام الاحمدیہ جرمنی بیان کرتے ہیں کہ ایک اجتماع میں حضورؓ نے فرمایا کہ میں جب خدام الاحمدیہ میں تھا تو مجھے بھی اس وقت سب سے زیادہ فکر اس چیز کا تھا اور میں نے اپنے سارے دَور میں سب سے […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم مقصودالحق صاحب سابق صدر خدام الاحمدیہ جرمنی بیان کرتے ہیں کہ 1990ء میں حضورؒ نیشنل اجتماع میں شمولیت کے لئے تشریف لائے۔ اجتماع اس وقت ناصر باغ میں ہوا کرتا تھا اور ان دنوں ناصر باغ کی تعمیر کا کام بھی جاری تھا۔ اُن دنوں شدید […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم حافظ فریداحمد خالد سابق نائب صدرخدام الاحمدیہ جرمنی لکھتے ہیں کہ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی ان خوش قسمت مجالس میں سے ہے جن سے سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ کو ایک خاص تعلق اور پیار تھا اور آپ کو اس مجلس سے خاص توقعات بھی تھیں۔ […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم منور احمد صاحب۔ سابق نا ظم اعلیٰ اجتماع بیان کرتے ہیں کہ جرمنی میں حضرت صا حبؒ سے خاکسار کی پہلی ملاقات نور مسجد میں گروپ کی شکل میں ہوئی۔ ہمیں حضورؒ کی خطبات کیسٹ بار بار سننے کا اتنا مزہ آتا تھا کہ ہمیں ایسے […]