کچھ تُو ہی بتا آخر تجھ کو تو خبر ہوگی – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍مئی 2003ء میں شامل اشاعت مکرم احمد مبارک صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: کچھ تُو ہی بتا آخر تجھ کو تو خبر ہوگی کس بزم میں وہ شمع اے دیدۂ تر ہوگی فرصت کی گھڑی گزری فرقت کی گھڑی آئی ہر دل ہے کہ تڑپے گا ہر آنکھ […]

حضرت بابو فضل الدین صاحبؓ

حضرت بابو فضل الدین صاحب 2؍فروری 1897ء کو سیالکوٹ میں حضرت میاں فیروزالدین صاحبؓ کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کے پڑدادا حضرت میاں نظام الدین صاحب کو حضرت مسیح موعودؑ کے سیالکوٹ میں قیام کے دوران حضورؑ کے دینی مشاغل سے کسی حد تک واقفیت تھی چنانچہ جب حضورؑ نے دعویٰ فرمایا تو انہوں نے […]

محترم عبدالرشید اغبولہ صاحب کی وفات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍مئی 2003ء میں مکرم عبدالرشید اغبولہ صاحب مربی سلسلہ نائیجیریا کی وفات کی اطلاع دی گئی ہے۔ آپ 13؍مئی 2003ء کو بعمر 50 سال وفات پاگئے۔ آپ 3؍مئی 1953ء کو نائیجیریا میں پیدا ہوئے اور 1973ء میں بیعت کی توفیق پائی۔ دینی علم کے شوق میں 20؍دسمبر 1980ء کو جامعہ احمدیہ ربوہ […]

محترم عبدالرشید اغبولہ صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍جون 2003ء میں مکرم عبدالقدیر قمر صاحب اپنے مضمون میں مکرم عبدالرشید اغبولہ صاحب مربی سلسلہ نائیجیریا کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ میرے کلاس فیلو تھے۔ رات کو کثرت سے نوافل ادا کرتے اور لمبی تہجد میں دعائیں کرتے۔ کسی کو نماز میں سست دیکھتے تو ناراض ہونے […]

دیوار کی تصویر ہوئے عشق کے مارے – نظم

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ستمبر 2002ء میں شامل مکرم محمد مقصود احمد منیب صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: دیوار کی تصویر ہوئے عشق کے مارے واللہ! کوئی ہجر میں اتنا بھی نہ مارے اک شہر کہ ویران ہوا ہے ترے غم سے ہوتے ہی نہیں اس میں بنا تیرے گزارے

اے پیارے تجھ کو دیکھ کے ہی مَیں آنکھیں نُور سے بھرتا ہوں – نظم

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ستمبر 2002ء میں شامل اشاعت مکرم ضیاء اللہ مبشر صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیہ قارئین ہے: اے پیارے تجھ کو دیکھ کے ہی مَیں آنکھیں نُور سے بھرتا ہوں مَیں دید پہ تیری جیتا ہوں اور تیری دید پہ مرتا ہوں مرے خوابوں اور تعبیروں میں، مری یاد کی سب تصویروں […]

’’بدر‘‘ قادیان کی خصوصی اشاعت ’’صحافت نمبر‘‘

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان نے جلسہ سالانہ قادیان 2002ء کے موقع پر اخبار کا ’’صحافت نمبر‘‘ شائع کیا ہے جو A3 سائز کے 48 صفحات پر مشتمل ہے اور یادگار تصاویر اور تاریخی معلومات سے مزین ہے۔ اس شمارہ میں جہاں جماعت احمدیہ کی سو سالہ صحافت کی تاریخ کو مختلف پہلوؤں سے یکجا کرکے […]

عربی رسائل کے عرب دنیا پر اثرات

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان کے صحافت نمبر 2002ء میں جماعت احمدیہ کے عربی رسائل کا تعارف اور اُن کے عرب دنیا پر حیرت انگریز اثرات سے متعلق ایک تفصیلی مضمون شامل اشاعت ہے جو مکرم عبدالمومن طاہر صاحب (انچارج عربک ڈیسک) نے تحریر کیا ہے۔ البشریٰ (کبابیر) یہ عربی ماہنامہ حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری […]

ریویو آف ریلیجنز کے اثرات

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان صحافت نمبر 2002ء میں انگریزی رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کے ایک سو سال مکمل ہونے پر ایک تفصیلی مضمون بقلم مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب شامل اشاعت ہے۔ 27؍دسمبر 1891ء کو پہلا جلسہ سالانہ قادیان منعقد ہوا جس کے لئے 7؍دسمبر کو دیئے جانے والے اشتہار میں حضرت مسیح موعودؑ […]

حضرت مصلح موعودؓ کے پاکیزہ اخلاق

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ نومبر و دسمبر 2002ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے پاکیزہ اخلاق کا ذکر مکرم مولانا عبدالرحمن انور صاحب کے قلم سے (ایک پرانی اشاعت سے منقول) شامل اشاعت ہے۔ ایک بار حضرت مصلح موعودؓ نے پانچ سو روپے کی رقم حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کے ذریعہ کسی دوست کو بھجوائی اور […]

حضرت مصلح موعودؓ کے ایمان افروز واقعات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍اکتوبر 2002ء میں بعض ایمان افروز واقعات (مرتبہ:مکرم شیخ عبدالقادر صاحب مربی سلسلہ) شامل اشاعت ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک تحصیلدار صاحب قادیان آئے اور مجھے بلاکر کہا کہ مرزا صاحب کی جائیداد آپ لوگوں کے نام چڑھائی ہے، […]

ہر گام ایک رہرو رفتہ دکھائی دے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍نومبر 2002ء میں شامل اشاعت مکرم ڈاکٹر محمودالحسن صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: ہر گام ایک رہرو رفتہ دکھائی دے ہر نقش پا میں ایک سراپا دکھائی دے جلوہ نمائی اس کو گوارا نہیں، مگر پردہ کرے وہ ایسا کہ گویا دکھائی دے اے کاش مجھ میں ایسے سما […]

مکرم چودھری ظفر ممتاز صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍اگست 2002ء میں مکرم پروفیسر راجا نصراللہ خانصاحب کے قلم سے مکرم چودھری ممتاز احمد صاحب کا مختصر ذکر خیر شامل اشاعت ہے۔ مکرم چودھری صاحب 1937ء میں گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نو سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ میٹرک کے بعد ربوہ آگئے اور […]

محترم محمد شفیع خان صاحب نجیب آبادی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍نومبر 2002ء میں مکرم مسعود رشید احمد خان صاحب اپنے والد محترم محمد شفیع خان صاحب نجیب آبادی کا ذکر خیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ مرحوم 1948ء میں کراچی آئے اور گولیمار کے علاقہ میں ایک کوارٹر لے کر اُس میں قیام کیا۔ پھر یہاں چند اَور احمدی بھی آکر آباد […]

سرزمین ربوہ کا تاریخی اور روحانی پس منظر

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20 و 21؍ستمبر 2002ء کے شماروں میں مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب کے قلم سے ربوہ کے تاریخی اور روحانی پس منظر پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ علامہ ابن خلدون نے نئے شہروں کی تعمیر کے سلسلہ میں حضرت عمرؓ کی ہدایات کا ذکر کیا ہے۔ان ہدایات کے مطابق […]

کیا دل کا دھڑکنا ہے، یہ کیا رشتۂ جاں ہے – نظم بیاد ثاقب زیروی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍ستمبر 2002ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالمنان ناہید صاحب کی نظم بعنوان ’’ثاقب زیروی‘‘ سے انتخاب پیش ہے: کیا دل کا دھڑکنا ہے، یہ کیا رشتۂ جاں ہے شائد یہ جہاں کارگہِ شیشہ گراں ہے اک درد کی لہر ایسی اٹھی بزم سخن میں دلگیر بہت قافلۂ ہم سخناں ہے اب کون […]

مکرم غلام رسول ورک صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍ستمبر 2002ء میں مکرم ریاض محمود باجوہ صاحب مربی سلسلہ نے اپنے مختصر مضمون میں مکرم لیفٹیننٹ کرنل غلام رسول ورک صاحب کا ذکر خیر کیا ہے۔ آپ 1926ء میں ضلع گجرات کے ایک گاؤں کھیریانوالی میں مکرم چودھری حاکم علی صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ ضروری تعلیم حاصل کرکے فوج میں […]

کپتان چودھری عبدالرحمٰن صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍ستمبر 2002ء میں مکرم کپتان چودھری عبدالرحمٰن صاحب آف دھوریہ ضلع گجرات کا تفصیلی ذکر خیر مکرم پروفیسر محمد سمیع طاہر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ آپ 9؍نومبر 2000ء کو لاہور میں 86؍سال کی عمر میں وفات پاگئے اور بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں […]

حضرت سیدہ چھوٹی آپا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍ستمبر 2002ء میں حضرت سیدہ چھوٹی آپا کا ذکر خیر (مرتبہ مکرمہ سیدہ نسیم سعید صاحبہ) شامل اشاعت ہے۔ مکرم لطف الرحمن صاحب نے حضرت سیدہ کے ماتحت بارہ سال سے زائد عرصہ بطور ڈرائیور گزارا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ بہت شفیق تھیں، سفر میں دوسروں کا خاص خیال رکھتیں۔ […]

خلق خدا ہے منتظر کیجئے لطف کی نظر – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍نومبر 2002ء میں مکرم احمد مبارک صاحب کی ایک غزل سے انتخاب پیش ہے: خلق خدا ہے منتظر کیجئے لطف کی نظر ایک نظر تو دیکھئے کس کو ہے انتظار کیا تیری نوائے درد سے بزم میں روشنی ہوئی ورنہ غروب دہر پر ہونا تھا آشکار کیا آپ کے در کا یہ […]

مکرمہ اقبال بیگم صاحبہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍نومبر 2002ء میں مکرمہ عاصمہ رفعت باری صاحبہ اپنی دادی مکرمہ اقبال بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم کیپٹن شیخ نواب دین صاحب مرحوم سابق امیر بمبئی کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ آپ موضع شرقپور ضلع جالندھر کے بزرگ بابو نور محمد صاحب کی پہلی بیوی سے اکلوتی اولاد تھیں جو […]

مکرم محمد صدیق ننگلی صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍ستمبر 2002ء میں مکرم محمد صدیق ننگلی صاحب سابق مربی سلسلہ کی وفات کی خبر شائع ہوئی ہے۔ آپ 1930ء میں پیدا ہوئے اور 1954ء میں جامعہ احمدیہ پاس کرنے کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں میں تعینات رہے۔ 1973ء میں سرینام بھجوائے گئے جہاں سے 1984ء میں واپس آئے تو جامعہ […]

صحابہ حضرت مسیح موعودؑ کی قبولیت دعا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍ستمبر 2002ء میں مکرم عطاءالوحید باجوہ صاحب کے قلم سے حضرت مسیح موعودؑ کے اصحابؓ کی قبولیت دعا کے ایسے واقعات شائع ہوئے ہیں جن کا تعلق ملازمت ملنے اور ملازمت یا کاروبار میں ترقی عطا ہونے سے ہے۔ جب حضرت نواب عبداللہ خان صاحبؓ کو سندھ میں بہت دشوار گزار حالات […]

مجلس انصاراللہ برطانیہ کا چیرٹی ڈنر 2018ء

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین نومبر دسمبر 2018ء) مجلس انصاراللہ برطانیہ کی طرف سے ایک ملین پاؤنڈ سے زائد رقوم کے چیک مختلف رفاہی اداروں میں تقسیم کئے گئے (رپورٹ: ناصر محمود پاشا) مؤرخہ 7؍دسمبر 2018ء بروز جمعۃالمبارک کی شام مسجد بیت الفتوح مورڈن (لندن) سے متصل طاہر ہال میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد ہوا جس […]

حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍نومبر 2002ء میں حضرت مسیح موعودؑ کے بعض صحابہؓ کے ایمان افروز واقعات مکرم شیخ عبدالقادر صاحب مرحوم (سابق سوداگرمل) کے قلم سے شامل اشاعت ہیں۔ حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ کے متعلق مکرم مرزا عبدالحق صاحب فرماتے ہیں کہ آپؓ میں تقویٰ کا ایک خاص رنگ تھا چنانچہ ایک بار بھامبڑی […]

محترم ملک محمد شیر صاحب جوئیہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍اکتوبر 2002ء میں مکرم اکرام اللہ جوئیہ صاحب مربی سلسلہ اپنے والد محترم ملک محمد شیر صاحب جوئیہ (ریٹائرڈ ہیڈماسٹر) کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ مکرم نور محمد صاحب جوئیہ کے بڑے بیٹے تھے۔ تدریس کے میدان میں آپ کی محنت اور علم کا ہر شخص معترف تھا۔ […]