روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍اکتوبر 2002ء میں شامل اشاعت مکرمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: چمن کی ہر روش کو خونِ دل سے ہم سنوار آئے نگار آئے ، غزال آئے ، کبھی شاید بہار آئے تم آؤ گے تو کتنی بولتی آنکھیں یہ پوچھیں گی گئے تھے دو گھڑی […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍مئی 2003ء میں مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب اپنے مضمون میں ایک انعام یافتہ کتاب کتاب ’’تذکرہ نعت گویان اردو‘‘ (از پروفیسر محمد یونس شاہ)کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ اردو نعت گوئی کا اوّلین اعزاز حیدرآباد دکن کے سلطان محمد قلی قطب شاہ (وفات 1611ء) کو حاصل تھا لیکن پنجاب […]
ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ مئی 2003ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے دو اشعار شائع ہوئے ہیں۔ مکرم پیر معین الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ کی بچیوں نے بتایا ہے کہ آخری دنوں میں یہ اکثر حضورؒ کے ورد زبان رہتے تھے: مَیں گہری نیند سونا چاہتا ہوں مَیں اب خاموش ہونا […]
ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ جون 2003ء میں حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب کے بیان فرمودہ چند دلچسپ واقعات (مرتبہ: مکرم خواجہ عبدالعظیم صاحب) شامل اشاعت ہیں۔ حضرت شیخ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ میرے ایک غیراحمدی دوست عبدالمجید صاحب گوشت بہم پہنچانے کے ٹھیکیدار تھے۔ ایک بار انہوں نے پانچ سو بھیڑوں کا سودا بھیڑوں […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍مئی 2003ء میں شامل اشاعت مکرم صابر ظفر صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: مَیں نے جو اس دلِ مسرور کی بیعت کی ہے سلسلہ وار تعلق کی اطاعت کی ہے خودبخود کھلتا چلا جائے گا احوال مرا مجھے کہنا نہ پڑے گا کہ محبت کی ہے اس کی […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍جون 2003ء میں شامل اشاعت ایک مضمون میں مکرم محمد اشرف کاہلوں صاحب حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے حوالہ سے رقمطراز ہیں کہ حضورؒ شفقت و عنایت کا ابر باراں تھے۔ میری بیٹی نے MTA پر اردو کلاس دیکھی تو معصومیت سے حضورؒ کی خدمت میں خط لکھ دیا کہ خوش نصیب بچے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍ جون 2003ء کی زینت مکرم خلیفہ صباح الدین صاحب کے مضمون میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی سیرت کے مختلف پہلو بیان کئے گئے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ حضورؒ بچپن سے ہی نہایت ذہین اور زیرک تھے۔ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے۔ جب وقت ملتا تو کھیل […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍جولائی 2003ء میں مکرم سید ساجد احمد صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ خلیفہ بننے سے کچھ عرصہ قبل حضورؒ امریکہ تشریف لائے تو چند روزہ معیت میں ایک یہ بات آپؒ سے سیکھی کہ سفر وغیرہ سے واپسی پر نماز کو دوسرے کاموں پر ترجیح دیتے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍جولائی 2003ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالسمیع نون صاحب اپنے مضمون میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع کا ذکر خیر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ 5؍اکتوبر 1974ء کو سرگودھا کے بیشتر احمدیوں کی املاک لوٹ لی گئیں یا نذر آتش کردی گئیں۔ انہی میں حضرت مرزا عبدالحق صاحب اور مکرم ڈاکٹر حافظ مسعود […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16؍جولائی 2003ء میں مکرمہ قدسیہ بیگم صاحبہ اپنے مضمون میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کا ذکر خیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ حضورؒ کے ساتھ کئی رشتے تھے لیکن سب سے بڑا رشتہ خلافت کا تھا اور پھر قادرؔ کی شہادت پر جو ہم سے غیرمعمولی ہمدردی کی۔ بچپن سے ہی آپؒ کی […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍جولائی 2003ء میں مکرم شیخ نثار احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے میری والدہ کو ایک قیمتی گھڑی تحفہ میں دی تھی۔ خاندان میں جو بچہ بھی امتحان دینے جاتا وہ برکت کے لئے حضورؒ کی گھڑی مانگ کر لے جاتا۔ میرے ایک بھانجے نے جب اوّل آکر […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍ستمبر 2002ء میں شامل اشاعت مکرم ڈاکٹر محمودالحسن صاحب کی ایک حمدیہ نظم سے انتخاب پیش ہے: پہلو میں مرے دل کے دھڑکنے کی صدا ہے یا نزدِ رگِ جان کوئی بول رہا ہے خاموش نہیں ، آج بھی جو بول رہا ہے وہ میرا خدا ، میرا خدا ، میرا خدا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍اکتوبر 2002ء میں مکرم حکیم قاضی نذر محمد صاحب اپنے والد محترم حکیم عبدالعزیز صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ 1911ء میں حافظ آباد کے نزدیک پیرکوٹ ثانی میں پیدا ہوئے۔ 1932ء میں ایک خواب کی بنا پر حضرت مصلح موعود ؓ کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔ […]
ماہنامہ ’’خالد‘‘ ستمبر 2002ء میں مکرم محمد زکریا ورک صاحب نے اپنے ایک سفر کی داستان بیان کی ہے۔ شکاگو کے اسٹرانومی میوزیم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کا افتتاح 1930ء میں ہوا تھا اور یہ امریکہ کا سب سے پہلا Planetarium تھا۔ یہاں ایک اسلامی سیکشن بھی ہے۔ ایک سیکشن میں […]
ریکارڈ کے مطابق سری لنکا (سیلون) میں پہلی بار جس نے احمدیت میں دلچسپی لی وہ علم دوست اور بارسوخ شخصیت عبدالعزیز صاحب کی تھی جو زاہرہ کالج کولمبو کے بانی تھے۔ اُن کو ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ سے احمدیت کا تعارف حاصل ہوا اور انہوں نے 1907ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں بیعت […]
محترم میاں محمد صدیق بانی صاحب کا ذکر خیر ہفت روزہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 13؍اکتوبر 1995ئ، 2؍فروری 1996ء اور 22؍نومبر 2002ء کے اسی کالم میں قبل ازیں کیا جاچکا ہے۔ ایک تفصیلی مضمون آپ کے بیٹے مکرم شریف احمد بانی صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍ستمبر 2002ء میں بھی شامل اشاعت ہے۔ محترم بانی […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍نومبر 2002ء میں محترم ڈاکٹر حافظ مسعود احمد صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے مکرم وحید احمد جنجوعہ صاحب لکھتے ہیں کہ 1974ء میں جب محترم حافظ صاحب کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ قائم کرکے آپ کو جیل بھیج دیا گیا تو آپ کے ایک بیٹے اور ایک غیرازجماعت ڈسپنسر کو بھی […]
روس کے ایک ظالم بادشاہ Ivon نے اپنے لئے زارؔ کا لقب اختیار کیا جو بعد میں روسی بادشاہوں کے لئے مشہور ہوگیا۔ اس کا دور حکمرانی 1533ء سے 1584ء تک پھیلا ہوا تھا- 22واں اور آخری زار اومانوف نکولس ثانی تھا جو 6؍مئی 1868ء کو پیدا ہوا۔ الیگزینڈر ثالث اُس کا باپ اور میری […]
مولدووا – شمال مشرقی یورپ میں یوکرائن اور رومانیہ کے درمیان 33700 مربع کلومیٹر رقبہ پر پھیلا ہوا ایک خوبصورت اور زرخیز ملک ہے جس کی آبادی قریباً 45لاکھ ہے۔ سولہویں صدی سے کبھی سلطنت عثمانیہ، کبھی آسٹریا، پھر روس اور رومانیہ کی غلامی کرتا ہوا یہ ملک 27؍اگست 1991ء میں روس کے ٹوٹنے پر […]
ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ اکتوبر 2002ء میں مکرم پروفیسر محمد اسلم صابر صاحب کے قلم سے غلافِ کعبہ کا تاریخی حوالہ سے جائزہ لیا گیا ہے۔ اہل مکہ نے جب اخروی زندگی کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے سورۃالدخان میں اُن کے خیال کا ردّ کرتے ہوئے فرمایا: ’’کیا وہ اچھے ہیں یا تُبَّعْ کی […]
ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ اگست 2002ء میں حضرت امّ عمارہ رضی اللہ عنہا کے بارہ میں ایک مضمون مکرمہ امۃالحئی فائزہ صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ حضرت امّ عمارہؓ انصاریہ تھیں اور قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے تعلق رکھتی تھیں۔ جب آنحضورﷺ کے ارشاد پر حضرت مصعب بن عمیرؓ مدینہ تبلیغ کے لئے […]
غزوۂ اُحد کے روز آنحضرتﷺ نے ایک تلوار اپنے ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا: کون ہے جو اس تلوار کو لے گا؟ ہر طرف سے ہاتھ اوپر بلند ہوئے جن میں حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، اور حضرت زبیرؓ بن العوام جیسے جری صحابہؓ بھی شامل تھے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا: کون اس تلوار کا حق ادا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11 اور 12؍اکتوبر 2002ء میں مکرم محمد امداد الرحمٰن صدیقی صاحب مبلغ سلسلہ نے بنگلہ دیش کے شہر کھلنا کی احمدیہ مسجد بیت الرحمٰن میں ہونے والے اُس بم دھماکہ کا ذکر کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں سات احمدی مخلصین نے شہادت کا جام پیا اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔ […]
ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اکتوبر 2002ء میں مکرم احمد طاہر مرزا صاحب نے بعض صحابہؓ کے بیان فرمودہ منتخب واقعات مرتب کئے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت طیبہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔ حضرت ڈاکٹر عبداللہ صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں حضرت اقدسؑ سے نیاز حاصل کرنے کے لئے لاہور […]
ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ مارچ 2002ء کی زینت مکرم رشید قیصرانی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: جلیں گے وقت کے ہر موڑ پہ دیئے اُس کے تمام منزلیں اُس کی ہیں، راستے اُس کے وہی تو تھا کہ جو سلطانِ حرف و حکمت تھا قلم کرشمہ تھا اور حرف معجزے اُس کے […]
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میری تائید میں اُس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ … اگر مَیں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں‘‘۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍جون و 13؍جون 2002ء میں مکرم […]