حضرت محمد اسماعیل صاحب معتبرؓ 1892ء میں ملیساں ضلع جالندھر کے ایک علمی گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ مڈل کرنے کے بعد 1906ء میں اپنے بڑے بھائی حضرت ماسٹر محمد علی صاحب اظہر ؓکے ساتھ قادیان پہنچے اور حضرت اقدس علیہ السلام کی بیعت کا شرف حاصل کیا اور پھر قادیان میں ہی سلسلہ تعلیم جاری […]
حضرت مولوی محمد عبداللہ صاحب علماء اہلحدیث میں شمار ہوتے تھے اور انجمن اہلحدیث کے رکن تھے۔ آپکے علمی مضامین مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے رسالہ ’’اشاعۃ السنہ‘‘ میں بھی شائع ہوا کرتے تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ فرمایا اور پھر پیشگوئی مصلح موعود فرمائی تو آپ نے قادیان جاکر […]
حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کی اشاعت کے بعد کتاب پر ریویو لکھنے والوں میں سے ایک حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی بھی تھے۔ آپ نے حضورؑ کے بارے میں لکھا کہ ’’اس کے مؤلف جناب مخدومنا مولانا میرزا غلام احمد صاحب دام فیوضہ ہیں… نہایت خلیق، صاحب مروت و حیا، جوان […]
حضرت سیٹھ صاحب کا تعلق میمن قوم سے تھا۔ آپ 1874ء میں بمبئی میں سیٹھ آدم صاحب کے ہاں پیدا ہوئے ، کاروباری ماحول میں پرورش پائی اور جامع مسجد بمبئی سے ملحقہ ایک دکان میں تجارت شروع کی اور نیلی چھتری والے تاجر مشہور ہوئے۔ آپ کے والد سندھ کے مشہور بزرگ پیر رشیدالدین […]
حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لانے والے احباب میں بہت سے ایسے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حیران کن ذرائع سے احمدیت کا پیغام پہنچایا اور اس سعادت سے بہرہ ور فرمایا ۔ مولوی غلام حسین صاحب ہانڈو گوجر ضلع لاہور میں امام مسجد تھے اور عالم باعمل ، حافظِ قرآن، حدیث و فقہ اور […]
ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ فروری 1997ء میں حضرت منشی اروڑے خان صاحبؓ کپورتھلوی کے بارہ میں مکرم مقصود منیب صاحب اپنے مضمون میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک بار جماعت کپورتھلہ کے بارہ میں فرمایا: ’’کپورتھلہ کی مٹی میں خدا تعالیٰ نے وہ اثر رکھا ہے کہ یہاں جس قدر لوگ سلسلہ […]
حضرت قاضی امیر حسین شاہ صاحبؓ بھیروی کو1891ء میں 27 سال کی عمر میں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی سعادت عطا ہوئی اور پھرآپؓ جلد ہی قادیان منتقل ہوگئے۔ مغلوں کے زمانے میں آپؓ کے آباء کو قاضی کا عہدہ حاصل رہا تھا چنانچہ آپ کے نام میں ’’قاضی‘‘ کا لقب شامل ہوگیا۔ حضرت […]
حضرت مولانا درد صاحب نے 7 دسمبر 1955ء کو ربوہ میں وفات پائی۔ آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بیان فرمایا کہ محترم درد صاحب نے M.A. کرنے کے بعد خود کو خدمت دین کے لئے پیش کیا۔ 21۔1920ء میں جب حضرت مصلح موعودؓ نے نظارتوں کا قیام فرمایا […]
ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا ،اپریل 1998ء میں سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ کی سیرۃ پر مکرم مولانا محمد اشرف صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ حضرت عمرؓ 582ء میں مکہ کے خاندانِ قریش میں پیدا ہوئے۔ نام عمر، لقب فاروق اور کنیت ابن خطاب تھی۔آپؓ نے سپہ سالاری، شہسواری، پہلوانی، فن خطابت اور لکھنا […]
حضرت خبابؓ لوہار تھے اور کفار اُن کی بھٹی میں سے دہکتے ہوئے کوئلے نکال کرزمین پر بچھا دیتے تھے اور پھر حضرت خبابؓ کو اُن کوئلوں پر لٹاکر کوئی بدبخت آپؓ کی چھاتی پر چڑھ جاتا تھا تاکہ آپؓ حرکت نہ کرسکیں۔ چربی کے جلنے کی بو آیا کرتی اور دہکتے ہوئے کوئلے اُس […]
مکہ کے رہنے والے زید باآواز بلند ایسے اشعار پڑھاکرتے تھے جن میں بتوں کی تکفیر اورایک خدا پر ایمان کا اعلان ہوتا تھا۔ انہوں نے دینِ ابراہیم کی تلاش میں شام، موصل اور جزیرہ تک کا سفر کیا اور وہاں کے یہودی اور نصرانی علماء سے ملاقاتیں کیں لیکن اُن لوگوں کے خیالات چونکہ […]
حضرت حمزہؓ کی والدہ ہالہ، آنحضورﷺ کی والدہ کی چچازاد بہن تھیں۔ آپؓ آنحضورﷺ سے دو سال قبل پیدا ہوئے اور ابولہب کی لونڈی ثوبیہ نے آپؓ کو دودھ پلایا جس نے بعد میں آنحضورﷺ کو بھی دودھ پلایا تھا۔ اس طرح آپؓ کو آنحضورﷺ کا رضاعی بھائی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ جوانی […]
حضرت اویس ؒ کا وطن یمن تھا اور نسباً قبیلہ مراد سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؒ کو بارگاہِ رسالتؐ سے غائبانہ ’’خیرالتابعین‘‘ کا لقب عطا ہوا۔ آنحضرتﷺ کے ایک ارشاد سے آپ کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔ حضرت عمرؓ سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ’’خیرالتابعین، مراد قبیلہ کا ایک شخص ہے جس کا نام اویسؒ […]
حضرت کعب بن مالکؓ کا تعلق قبیلہ بنو سلمہ سے تھا اور زمانہ جاہلیت میں آپؓ کی کنیت ابو بشیر تھی جسے آنحضرت ﷺ نے بدل کر ابو عبداللہ کردیا۔ آپؓ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے اور بیعت عقبیٰ ثانیہ کے موقع پر 70؍ افراد کے ہمراہ مدینہ سے مکہ آکر آپؓ نے بیعت […]
حضرت ابوقتادہؓ آنحضرتﷺ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا۔ آنحضورؐ نے دریافت فرمایا کہ اس پر کوئی قرض ہے؟ عرض کیا گیا ’’ہے‘‘۔ فرمایا کیا کچھ ترکہ بھی چھوڑا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا ’’نہیں‘‘۔ آنحضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ آپ لوگ جنازہ پڑھ لیں۔ حضرت ابوقتادہؓ نے عرض […]
حضرت سعد الاسودؓ کو حصول رشتہ میں سخت مشکلات پیش آئی تھیں اور آخر آنحضرتﷺ کی تجویز پر آپؓ کا رشتہ طے ہوا۔ آپؓ آرزوؤں سے لبریز دل کے ساتھ بازار سے بیوی کے لئے تحائف خریدنے نکلے تو کسی مناد کی آواز سنائی دی جو جہاد فی سبیل اللہ کیلئے بلا رہا تھا۔ آپؓ […]
حضرت صوفی عبدالرزاق الکاشانیؒ نے فرمایا تھا کہ ’’تمام انبیائے گزشتہ علوم و معارف میں امام موعودؑ کے تابع ہوں گے اس لئے کہ امام موعودؑ کا باطن دراصل محمد مصطفیﷺ کا باطن ہے‘‘۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے فرمایا تھا: ’’امام موعودؑ آنحضرتﷺ کی حقیقی تصویر ہوگا‘‘۔ شیعہ عالم علامہ باقر مجلسی ؒ نے […]
لنگر کا انتظام ابتدائی زمانہ میں حضرت مسیح موعودؑ کے گھر میں ہی ہوتا تھا۔ گھر میں دال سالن پکتا اور ایک بڑے توے پر دو تین نوکرانیاں بہت سی روٹیاں پکاکر باہر بھیج دیا کرتی تھیں۔ حضرت اقدسؑ کی مہمان نوازی کے ایمان افروز تاریخی واقعات (مرتبہ: مکرم حبیب الرحمان زیروی صاحب) روزنامہ ’’الفضل‘‘ […]
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ ان کیلئے دعا کرتے رہو … جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح مت توڑو‘‘۔ چنانچہ ایک شخص جو عجلت میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا اس کے بارہ میں آپؑ نے […]
حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کرم دین کے سلسلہ میں 15؍ جنوری 1903ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور بٹالہ و امرتسر سے ہوتے ہوئے لاہور میں پہلا قیام فرمایا جہاں پہلے روز قریباً 40 ؍ افراد نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس رات حضرت اقدسؑ کو بار بار بتایا […]
ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا مارچ 1997ء میں محترم ہدایت اللہ ہادی صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کے بارے میں بعض مشاہیر کی تحریریں پیش کی ہیں۔ علامہ نیاز فتحپوری لکھتے ہیں:- ’’اس میں کلام نہیں کہ انہوں نے یقیناً اخلاق اسلامی کو دوبارہ زندہ کیا اور ایک ایسی جماعت پیدا کرکے دکھا دی جس کی […]
حضرت اقدسؑ کو اگر کسی کی بیماری کی خبر ملتی تو آپؑ علاج معالجہ اور تیمارداری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتے۔ بعض دفعہ عورتیں بیمار بچوں کو لے کر چلی آتیں اور حضورؑ کئی کئی گھنٹے کھڑے ہوکر ہر ایک کو باری باری دوا بناکر دیئے جاتے اور آپؑ کی پیشانی پر کبھی شکن […]
بعثت سے قبل ہی 1880ء میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ قولنج زحیری سے بیمار ہوئے اور 16 دن تک برابر آپؑ کوخون کے دست آتے رہے۔ سخت تکلیف تھی لیکن شدت کرب میں بھی آپؑ کے مونہہ سے کوئی بے صبری کا کلمہ نہ نکلا بلکہ برابر تسبیح و تحمید میں لگے رہے۔ ایسے میں […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11 فروری1997ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بصیرت کا یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک سائل نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی کہ اس کا کوئی عزیز فوت ہوگیا ہے جس کے کفن دفن کے لئے کچھ انتظام نہیں ہے۔ اس […]
حضرت مسیح موعودؑ کی عادت تھی کہ مہمانوں کے لئے دوستوں سے پوچھ پوچھ کر عمدہ سے عمدہ کھانے پکواتے۔ ایک بار حضرت حسام الدین صاحبؓ نے عرض کیا کہ میں شب دیگ عمدہ پکوانی جانتا ہوں۔ حضورؑ نے ایک مٹھی روپوؤں کی ان کے آگے رکھ دی اور انہوں نے بقدر ضرورت روپے اٹھا […]
’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا جون 1996ء میں محترم ڈاکٹر فضل دین خٹک صاحب نے محترم چودھری ریاض احمد صاحب شہید شب قدر کومنظوم خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں: تمام عمر ریاضت کرے کوئی انسان کسی کے خود ہی قدم چومتے ہیں عز و کمال گھسیٹتے ہو اسے کیوں؟ یہ جسم خاکی ہے […]