روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 31؍ مئی 1995ء میں شائع ہونے والی مکرم نسیم سیفی صاحب کی ایک نظم سے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں: محبت جب رہین گردش حالات ہوتی ہے زمانے بھر کی ہر شے باعث آفات ہوتی ہے بظاہر اہل دنیا کو بھی اطمینان ہے حاصل خدا والوں کی لیکن اور ہی کچھ بات ہوتی […]
مکرم چودھری محمد علی صاحب کا مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ کی نشریات کے حوالہ سے ایک طویل ’’قصیدہ تہنیت‘‘ ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ مارچ 1995ء میں شائع ہوا ہے۔ چند اشعار پیش ہیں: یہ جو ہم اس قدر رہے ہیں ملول اس کا انعام ہوگیا ہے وصول آسماں سے سرِ ’منارہ شرق‘ ’ابن مریم‘ کا ہو […]
ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان 14؍ مارچ 1996ء کی زینت محترم صابر صدیقی صاحب کی ایک نظم میں سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں: رہے اہل جنوں کنج قفس میں جاں بلب برسوں تپا نمرودیٔ آتش میں زرِ ایمان جب برسوں دعا دل چیر کر نکلی زمیں سے تا فلک پہنچی صدائے طاہر محبوب حق جب حق […]
حدیث مبارک ہے کہ قیامت کے دن سات قسم کے آدمی عرش کے سایہ تلے ہونگے جن میں سے ایک وہ ہے جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اُس کے آنسو نکل آئے۔ اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ نے جو نظم کہی تھی وہ […]
روزنامہ’’الفضل‘‘ ربوہ 31؍دسمبر1996ء کا پرچہ ’’سالانہ نمبر‘‘کے طور پر شائع ہوا ہے۔ اس شمارہ کی زینت محترم عبدالمنان ناہید صاحب کی ایک نظم کا آخری بند ملاحظہ فرمائیں: مشام جاں میں ہو یوں مشکبار مرضیٔ یار دل و دماغ میں سودائے رنگ و بو نہ رہے دل حزیں میں بس ایک تیری آرزو کے سوا […]
روزنامہ’’الفضل‘‘ ربوہ 31؍دسمبر1996ء کا پرچہ ’’سالانہ نمبر‘‘کے طور پر شائع ہوا ہے۔ اس شمارہ کی زینت محترم ثاقب زیروی صاحب کی ایک نظم سے دو اشعار ہدیۂ قارئین ہیں: ہر لمحہ نظر میں ہیں بدلتے ہوئے حالات اے دوست بہت دُور نہیں روزِ مکافات دنیا سے گلہ مندی کی عادت نہیں ہم کو لاتے نہیں […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍ اپریل 1996ء کے شمارہ کی زینت محترم نسیم سیفی صاحب کی ایک نظم کے دواشعار ملاحظہ فرمائیں: وہ خوش نصیب جو شب زندہ دار ہوتے ہیں نشان رحمت پروردگار ہوتے ہیں انہی کو ملتی ہے تسکینِ قلب کی دولت وفور شوق سے جو بے قرار ہوتے ہیں
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم جون 1995ء کی زینت مکرم ڈاکٹر محمود الحسن صاحب کی نظم کے چند اشعار پیش ہیں: جانے کیا آنکھوں کے پیمانے چھلکاتے ہیں آپ اور بھی بہکے ہوئے رندوں کو بہکاتے ہیں آپ ہے انیس شام تنہائی فقط یاد آپ کی کیا بتائیں کیسے کیسے دل کو بہلاتے ہیں آپ سوز […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍اپریل 1995ء کی زینت مکرم ڈاکٹر محمود الحسن صاحب کی ایک نظم سے دو اشعار ہدیہ قارئین ہیں: اگرچہ جان سے جاتے رہے ہم مگر اوروں کے کام آتے رہے ہم یہ کیسا عشق فرماتے رہے ہم دلِ ناداں کو تڑپاتے رہے ہم
ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اپریل 1995ء کی زینت مکرم احسن اسماعیل صدیقی صاحب کی ایک خوبصورت نظم سے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں: گزری ہے شب غم تو سحر دیکھ رہا ہوں اک جبرِ مسلسل کا ثمر دیکھ رہا ہوں ہے شاخِ توکل پہ تیری میرا نشیمن ہواؤں کو بہت زیر و زبر دیکھ رہا ہوں
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍اگست 1995ء کی زینت مکرم محمد صدیق امرتسری صاحب کی ایک نظم سے تین اشعار ہدیہ قارئین ہیں: اہل الفت کی روایات کو تو کیا جانے عشق کی زندہ کرامات کو تو کیا جانے یونہی الزام نہ دھر مجھ پہ ریاکاری کا قلب مجروح کے جذبات کو تو کیا جانے تو نہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم جولائی1995ء میں شائع ہونے والی مکرم نسیم سیفی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: شباب حشر در آغوش حسن لا جواب آؤ مٹا ڈالوں میں اپنے دل سے فکر احتساب آؤ تمہاری تابش رخ کی کہاں سے تاب لاؤں گا مرے دل میں جو آؤ تو حجاب اندر حجاب […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍جون 1995ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالمنان ناہید صاحب کی ایک نظم کے دو اشعار پیش ہیں: اس نگاہ ناز کا جس طرف گزر ہوا سنگ رہگذار بھی رشک صد گہر ہوا جان دے کے بھی اگر ہم نے پا لیا انہیں معرکہ حیات کا جان لیں گے سر ہوا
مکرم ڈاکٹر محمود الحسن صاحب کی ایک خوبصورت نظم سے دو بند ملاحظہ فرمائیں جو روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍اپریل 1995ء کی زینت ہے: عشق الفاظ کا محتاج نہیں عاشقی رخ سے عیاں ہوتی ہے عشق کا ربط ہے خاموشی سے اور ہوس چرب زباں ہوتی ہے جان دیتے ہیں جو رہ حق میں زندگی کا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ12؍اپریل 1995ء میں شائع شدہ مکرم محمد صدیق امرتسری صاحب کی ایک خوبصورت نظم میں سے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں: دل شکستہ ہے آنکھ پر نم ہے کوئی مونس نہ کوئی ہم دم ہے یہ صلہ ہے مری وفاؤں کا طعنہ زن مجھ پہ سارا عالم ہے
محترمہ صاحبزادی امتہ القدوس صاحبہ کے دوہے ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ مارچ 1995ء میں شائع ہوئے ہیں۔ دو اشعار ملاحظہ فرمائیں: گدلے پانی میں تو چاند بھی صاف دکھے نہ پھول ساجن درشن چاہے تو کر صاف تو من کی دھول منگتی در پہ آ بیٹھی ہے جھولی کو پھیلائے اس آشا میں اس در سے […]
ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ مارچ 1995ء میں شائع ہونے والی مکرم عبدالسلام اسلام صاحب کی ایک نظم سے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں: دل میں مچلتی ہے مرے ہر دم یہ آرزو نوع بشر کے غم میں ہو ہر آنکھ باوضو اوروں کا درد بانٹ کر تسکینِ دل ملے مستی ہو ایسی پیار کی شرمندہ ہو سبو
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍اپریل 1995ء میں مکرم نسیم سیفی صاحب کی ایک نظم کے دو بند ہدیہ قارئین ہیں: جس کے ہر جرعہ پُرکیف میں ہو لطفِ حیات جس کا ہر شعلہ ہو صد غیرت قندیل نجات جس کی مستی میں جھلکتا ہو مسرت کا ثبات ہاں وہی جام مئے ناب پلا دے ساقی مجھ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍اپریل1995ء میں شائع شدہ مکرم آصف محمود باسط صاحب کی نظم کے دو اشعار ملاحظہ فرمائیے: آگ برساتی ہوئی اس دھوپ میں اک تمہاری ذات کا سایہ بہت اک بہاروں تک نہیں محدود تھا تو تو ہر موسم میں یاد آیا بہت
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍مئی 1995ء کی زینت مکرم ثاقب زیروی صاحب کے کلام سے تین اشعار ہدیہ قارئین ہیں: جن خیالوں میں بسی ہے تری زلفوں کی مہک ان خیالوں کو پریشان نہ ہونے دیں گے ہر حسیں شکل میں تسکین کے پہلو ڈھونڈے دل کو ہم اتنا بھی نادان نہ ہونے دیں گے ڈوب […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍ستمبر1995ء کی زینت مکرم عبدالمنان ناہید صاحب کے کلام می. سے دو منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں: کیا کہا ناصح! مجھے تابِ شکیبائی نہیں کیا تجھے اندازہ آشوبِ تنہائی نہیں تھا کوئی دن جو تمہارے ذکر سے خالی رہا یا تمہاری یاد نے جو رات مہکائی نہیں
محترم فیض چنگوی صاحب کی ایک نظم سے جو روزنامہ ’’الفضل‘‘ 11؍جون 1995ء میں شائع ہوئی ہے ، چند اشعار ہدیہ قارئین ہیں: تم پہ جب ساری حقیقت منکشف ہو جائے گی اپنے اس کردار پر پچھتاؤ گے، پر دیر سے جو ڈرامہ آج کھیلا جا رہا ہے شوق سے اس کی پرسش پر بہت […]
روزنامہ الفضل‘‘ ربوہ 17؍اپریل 1995ء میں شامل اشاعت مکرم نسیم سیفی صاحب کی شہدائے احمدیت کے حوالہ سے کہی جانے والی ایک رباعی ملاحظہ کیجئے: جان دے کر تو نے ثابت کردیا تھا خدا کی ذات پر کتنا یقیں تیرے جانے سے ہزاروں آئیں گے تیرا جانا ایسا ویسا تو نہیں
ماہنامہ ’’مصباح‘‘ جون 1995ء میں شامل اشاعت محترمہ طیبہ سروش صاحبہ کی ایک نظم بعنوان ’’جمالِ جلوہ‘‘ میں سے دو بند ملاحظہ فرمائیں۔ درونِ پردہ تصویر ہی سہی لیکن سوال یہ ہے وہ چہرہ نظر تو آیا ہے جمالِ عکس سے باہر نہ آسکا لیکن وہ اپنے شہر میں پھر لَوٹ کر تو آیا ہے […]
ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ مارچ 1995ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی یاد میں کہی گئی محترمہ سیدہ منیرہ ظہور صاحبہ کی ایک نظم کے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں وہ اسیرانِ نفس کی رستگاری کا نقیب وہ بیوت الذکر کا معمار ، رہبر ، خوش نصیب تجھ کو صدیوں یاد رکھیں گے یہ ربوہ […]
’’راہ سلوک‘‘ کے زیر عنوان مکرم عبدالمنان ناہید صاحب کا ایک قطعہ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍نومبر 1995ء کی اشاعت سے پیش ہے: منزل بہ منزل آگے بڑھاتے چلو قدم اس رہ کی لیکن آخری منزل کوئی نہیں جذب سلوک اوّل و آخر تمام عشق یہ بحر موج ، موج ہے ساحل کوئی نہیں