مکرم چوہدری عبد الرحمن صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍اپریل 2004ء میں محترم چودھری عبدالرحمٰن صاحب ایڈووکیٹ (المعروف سی اے رحمن) کا ذکر خیر مکرم عبدالقدیر قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ مکرم چوہدری صاحب بچپن سے ہی بہت ہونہار، ذہین، نمازوں میں شغف رکھنے والے تھے۔ بعد ازاں آپ ایک قدآور شخصیت کے روپ میں ابھرے لیکن انتہائی…

حضرت قاضی عبد السلام بھٹی صاحب رضی اللہ عنہ

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ مارچ؍ 2004ء میں مکرمہ ثریا قادر صاحبہ نے اپنے مضمون میں محترم قاضی عبدالسلام بھٹی صاحب کا ذکر خیر کیا ہے۔ حضرت قاضی عبد السلام بھٹی صاحب رضی اللہ عنہ 1998ء میں 98سال کی عمر میں لندن میں وفات پاگئے تھے۔ مضمون نگار بیان کرتی ہیں کہ بے شک آپ میرے حقیقی…

انا کو مارنے کا جب ارادہ کرلیا مَیں نے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍مارچ 2004ء میں شامل اشاعت مکرمہ صاحبزادی امۃالقدوس صاحبہ کی ایک غزل سے انتخاب پیش ہے: انا کو مارنے کا جب ارادہ کرلیا مَیں نے تو فہم ذات کو صیقل زیادہ کر لیا مَیں نے وفا کا لفظ اُن کے لب سے کچھ اس شان سے نکلا کہ حرز جان پھر یہ…

محترم شیخ محبوب عالم صاحب خالد

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10 ؍مارچ 2004ء میں مکرم ناصر احمد خالد صاحب اپنے والد محترم پروفیسر محبوب عالم خالد صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ مجلس خدام الاحمدیہ کے بانی ممبر اور پہلے منتخب جنرل سیکرٹری تھے۔ مجلس خدام الا حمدیہ کی تاسیس سے متعلق آپ فرماتے ہیں: ’’20 جنوری1938 ء…

محترم مولانا محمد سعید صاحب انصاری

محترم مولانامحمد سعید انصاری صاحب 9؍ جنوری 2004ء کو 88سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ آپ ایک نہایت محنتی، مخلص اور باوفا خادمِ سلسلہ اور واقفِ زندگی تھے۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14؍فروری 2004ء میں مکرم میر انجم پرویز صاحب کے قلم سے محترم مولانا محمد سعید انصاری صاحب کے بارہ میں ایک تفصیلی مضمون شامل…

ہدایت کیلئے اصحاب احمدؑ کی قبولیتِ دعا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍جنوری 2004ء میں حضرت مسیح موعودؑ کے بعض اصحاب کی ایسی دعاؤں کی قبولیت کا ذکر (مرتبہ:عطاء الوحید باجوہ صاحب) شامل اشاعت ہے جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت سے نوازا اور انہوں نے مسیح الزمان یا خلیفۂ وقت کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔ حضرت جان محمد صاحبؓ…

محترم سید میر مسعود احمد صاحب

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان میں مکرم عبدالرؤف خان صاحب نے اپنے مضمون میں محترم سید میر مسعود احمد صاحب کا ذکر خیر کیا ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ محترم میر صاحب سے میرا تعلق اکتوبر1964ء میں قائم ہوا جبکہ آپ کوپن ہیگن ڈنمارک میں بطور مبلغ سلسلہ مقیم تھے اور مَیں جدہ میں اپنی…

محترم نواب عباس احمدخان صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍جنوری 2004ء میں محترم نواب عباس احمد خان صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے مکرم محمدرمضان صاحب رقمطراز ہیں کہ آپ 20؍جون 1920ء کو حضرت سیدہ نواب امۃالحفیظ بیگم صاحبہؓ اور حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحبؓ کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم قادیان سے حاصل کی۔ شروع سے ایک خادم کی…

محترمہ شوکت رحیم صاحبہ شہید

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ نومبر 2003ء میں مکرمہ لبنیٰ سعید صاحبہ اپنی والدہ محترمہ شوکت رحیم صاحبہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ آپ کی ساری زندگی انتھک محنت اور غموں کا مقابلہ کرتے ہوئے گزری۔ بہت چھوٹی عمر میں والدہ کا انتقال ہوگیا۔ حضرت اماں جانؓ اور حضرت چھوٹی آپا کے زیرسایہ تربیت پائی۔…

’’ڈاکٹر عبد السلام کو سلام‘‘

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ جنوری 2005ء میں مکرمہ زینت محمود صاحبہ کے محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے بارہ میں ایک انگریزی مضمون کا اردو ترجمہ (از مکرم حافظ سمیع اللہ صاحب) شامل اشاعت ہے۔ 1925ء میں ضلع جھنگ کے ایک فرد کو اس کی دعاؤں کے نتیجہ میں یہ رؤیا دکھائی گئی کہ ایک بچہ اس…

حضرت مصلح موعودؓ کی روایات کی روشنی میں حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت مبارکہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍جنوری 2004ء میں ایک تفصیلی مضمون (مرتبہ مکرم حبیب الرحمن زیروی صاحب) میں حضرت مصلح موعودؓ کی روایات کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرۃ مبارکہ بیان کی گئی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے دادا کی عالی ہمتی حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ سنایا…

محترم عبدالعزیز بھامبڑی صاحب

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا ستمبر و اکتوبر 2003ء میں مکرم راضیہ سرفراز خان صاحبہ اپنے والد محترم عبدالعزیز بھامبڑی صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ آپ 1918ء میں ضلع گورداسپور کے گاؤں بھامبڑ میں پیدا ہوئے۔ اپنی ساری برادری میں آپ کے والد محترم چودھری عبدالکریم صاحب ہی احمدی تھے۔ محترم بھامبڑی…

حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ

کینیڈا سے شائع ہونے والے رسالہ ’’نحن انصاراللہ‘‘ جولائی تا دسمبر 2003ء میں مکرم سید جمیل احمد شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرا بچپن حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ کے گھر میں گزرا۔ میری والدہ بھی اسی خاندان کی پروردہ ہیں اور آپؓ نے ہی اُن کی شادی کا انتظام کیا۔ یہ میری…

حضرت مسیح موعودؑ کا اکرام ضیف

ماہنامہ ’’خالد‘‘ اکتوبر 2003ء میں مکرم احمد طاہر مرزا صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کے مہمان نوازی کے بعض واقعات بیان کئے ہیں۔ حضرت حافظ نبی بخش صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب کبھی مہمان زیادہ ہوتے تو حضورؑ گول کمرہ کے فرش پر مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتے۔ کئی دفعہ مَیں نے حضورؑ کے…

اخلاق پر خوراک کا اثر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے علم پاکر جن عظیم الشان اسرار سے پردہ اٹھایا ہے ان میں ایک خوراک کا اخلاق پر اثر بھی ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ نہ صرف خوراک بلکہ کھانے پینے کے طریقے بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ قرآن کریم…

حضرت لقمان علیہ السلام

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ اکتوبر 2003ء میں حضرت لقمان علیہ السلام کے حوالہ سے ایک مضمون مکرم محمد عمر فاروق صاحب کے قلم سے (بحوالہ مرقع اردو) شامل اشاعت ہے۔ قرآن کریم میں حضرت لقمانؑ کے نام سے ایک سورۃ ہے اور اُن نصائح کا بھی ذکر ہے جو آپؑ نے اپنے بیٹے کو کی تھیں۔ آپؑ…

حضرت منشی محمد اروڑے خانصاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13 و 14؍نومبر 2003ء میں مکرم حبیب الرحمٰن زیروی صاحب کے قلم سے حضرت منشی محمد اروڑے خان صاحبؓ آف کپور تھلہ کے بعض واقعات شامل اشاعت ہیں۔ حضرت منشی صاحب ایک معمولی نوکری سے تحصیلداری تک پہنچے اور ریاست کی طرف سے خانصاحب کا خطاب حاصل کیا۔ پھر جبراً پنشن لے…

سیرۃ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان کے ’’سیدنا طاہر نمبر‘‘ میں حضرت مرزا وسیم احمد صاحب نے حضورؒ کے حوالہ سے اپنی یادیں بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ حضورؒ بچپن سے ہی محنتی، جفاکش اور مختلف کھیلوں میں حصہ لینے والے تھے۔پرائمری تک سب بھائیوں کی تعلیم تعلیم الاسلام سکول میں ہوئی بعد میں مجھے…

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع کے بارہ میں خاندان کی بعض خواتین کے انٹرویوز

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ کی خصوصی اشاعت ’’سیدنا طاہر نمبر‘‘ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی بعض خواتین کے انٹرویوز بھی شامل اشاعت ہیں جن میں انہوں نے حضورؒ کی سیرت کے حوالہ سے آپ کی محبت و شفقت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ ٭ حضرت سیدہ صاحبزادی ناصرہ…

بہترین ہمسائیگی

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ دسمبر 2003ء میں مکرمہ امۃالقدیر ارشاد صاحبہ اپنے مضمون میں بیان کرتی ہیں کہ مجھے ایک لمبا عرصہ حضورؒ کی ہمسائیگی میں رہنے کا شرف حاصل رہا۔ آپؒ ایک بہترین ہمسائے تھے۔ ہمیشہ بہت خیال رکھا۔ آپ ؒ بہت بلند اخلاق کے مالک تھے۔ ایک بار جب میرے داماد ربوہ آئے تو…

خدام سے حسن سلوک

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ کے ’’سیدنا طاہر نمبر‘‘ میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کے بارے میں مکرم عبدالباری ملک صاحب نے اپنے مضمون میں حضورؒ کی سیرۃ کے حوالہ سے بیان کیا کہ جلسہ سالانہ کے دوران جب حضورؒ لنگر خانہ نمبر2 کے ناظم تھے تو عام کارکنان کے ساتھ مٹی کے برتنوں میں ہی…

حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی اسیران راہِ مولیٰ کے ساتھ بے پناہ شفقت کے انداز

26؍اپریل 1984ء کو آمر ضیاء الحق کے آرڈیننس کے نفاذ کے ساتھ ہی پاکستان کے احمدیوں پر مصائب کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہوگیا۔ اس ظالمانہ قانون کے نتیجہ میں بے شمار احمدیوں نے جان و مال کی قربانیاں انتہائی بشاشت کے ساتھ پیش کیں۔ بہت سے بے گناہ احباب کو مختلف مقدمات…

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی شفقت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 18؍دسمبر 2003ء میں مکرم شیخ محمد عامر صاحب کا مضمون شامل اشاعت ہے۔ آپ رقمطراز ہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خلافت کا ابتدائی سال تھا جب مَیں گورنمنٹ کالج لاہور میں فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا۔ کالج کی طرف سے مجھے سکالرشپ ملا جو مَیں نے سارا حضورؒ سے ملاقات…

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی انکساری

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سیدنا طاہر نمبر میں حضورؒ کے عجزوفروتنی کے بعض واقعات حضرت مرزا عبدالحق صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہیں۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ خلیفہ بننے سے قبل بعض ایسے اجلاسات میں شامل ہوتے جن میں مَیں بھی شامل ہوتا تو اجلاس کے بعد مجھے بس پر چڑھانے کے…

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی سیرۃ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سیدنا طاہر نمبر میں حضورؒ کی چند حسین یادیں بیان کرتے ہوئے مکرم چودھری محمد ابراہیم صاحب رقمطراز ہیں کہ 1979ء میں جب حضورؓ مجلس انصاراللہ کے صدر بنے تو سب سے پہلے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے خطبات کی کیسٹس تیار کرنے کے نظام کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیا…

حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی سیرۃ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سیدنا طاہر نمبر میں حضورؒ کی ذاتی زندگی کے بعض دلچسپ امور (مرتبہ مکرم عبدالستار خان صاحب) حضورؒ کے الفاظ میں ہی پیش کئے گئے ہیں۔ ترجمہ قرآن کریم۔ فرمایا : ’’یہ تو مَیں نے خود ہی پڑھا ہے۔ کلاس میں تو ہم پڑھا کرتے تھے، استاد بھی پڑھایا کرتے تھے…