روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ سالانہ نمبر 2006ء میں مکرم مغفور احمد منیب صاحب کے قلم سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ جاپان میں احمدیہ مشن کا قیام 4جون 1935ء کو عمل میں آیا جب مکرم صوفی عبدالقدیر صاحب جاپان پہنچے۔ 10؍جنوری 1937ء کو مکرم مولوی عبدالغفور ناصر صاحب بھی یہاں پہنچے اور 1941ء میں واپس قادیان […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ سالانہ نمبر 2006ء میں نیوزی لینڈ کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ نیوزی لینڈ کی وجہ تسمیہ اس کا صوبہ زی لینڈ ہے جس کے معنی ہیں: ’’سفید بادلوں کا وطن‘‘۔ یہ ملک بحرالکاہل میں دو بڑے جزیروں پر مشتمل ہے جن کا پھیلاؤ 1600 کلومیٹر تک ہے۔ شمالی جزیرہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ سالانہ نمبر 2006ء میں شامل اشاعت ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ نیوزی لینڈ میں جماعت احمدیہ کا مرکز ’’بیت المقیت‘‘ آک لینڈ میں واقع ہے۔ ڈیڑھ ایکڑ رقبہ پر مشتمل یہ جگہ 1998ء میں خریدی گئی تھی۔ یہاں ایک بڑے ہال کے علاوہ مشن ہاؤس، گیسٹ ہائوس، دفاتر، لائبریری اور […]
فجی 332 جزائر پر مشتمل ہے جن میں سے 106 جزیرے آباد ہیں۔ فجی کا زمینی رقبہ 7,054 ہزار مربع میل ہے جبکہ اس کے جزائر اڑھائی لاکھ مربع میل سمندر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ دو بڑے جزیرے Viti Levo اور Vanualevu کُل رقبہ کا 85 فیصد ہیں اور 90فیصد آبادی انہی پر آباد ہے۔ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ سالانہ نمبر 2006ء میں مکرم نعیم احمد محمود چیمہ صاحب (امیر و مبلغ انچارج) کے قلم سے جماعت احمدیہ فجی کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ 1879ء سے 1919ء تک جب 60 ہزار انڈین مزدور گنے کی فصل کاشت کرنے کے لئے فجی لائے گئے تو یہاں ہندو کلچر اور زبان […]
محترم مولانا شیخ عبدالواحد صاحب فاضل جب فجی کے شہروں ناندی اور لٹوکا میں جماعتوں کی بنیاد رکھ کر دارالحکومت صووا پہنچے تو جون 1961ء میں ایک ہی دن میں 12 افراد بیعت کرکے جماعت میں شامل ہوگئے۔ جب ایک مخلص اور فعال جماعت قائم ہوگئی تو ایک مکان کرایہ پر لے لیا گیا۔ لیکن […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ سالانہ نمبر 2006ء میں مکرم ثاقب محمود عاطف صاحب نے آسٹریلیا میں احمدیت کی حالیہ تاریخ کے بعض سنگ میل بیان کئے ہیں۔ ٭ 1984ء میں آسٹریلیا کا پہلاجلسہ سالانہ منعقد ہوا جس میں 80؍افراد نے شرکت کی۔ 5 جولائی 1985ء کو محترم مولانا شکیل احمد منیر صاحب پہلے امیر ومبلغ کے […]
آسٹریلیا کے پہلے احمدی اور یہاں کی پہلی احمدیہ مسجد کی تعمیر سے متعلق محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد کا ایک تاریخی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ سالانہ نمبر 2006ء کی زینت ہے۔ پہلے احمدی حضرت موسیٰ حسن خانصاحب کے بارہ میں قبل ازیں ایک مضمون ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 25؍جون2004ء کے الفضل ڈائجسٹ کی زینت بھی […]
آسٹریلیا دراصل لاطینی لفظ Australis سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں ’’جنوبی زمین‘‘ ۔ یہ براعظم ایک بڑا جزیرہ ہے اور رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ اس کی لمبائی 4025کلو میٹر او ر چوڑائی 3700کلو میٹر ہے۔ کُل رقبہ 7,682,300 مربع کلومیٹر ہے جس کا دوتہائی صحرا ہے۔ آبادی […]
جمہوریہ سنگاپور کا پرانا نام Tumasek یعنی سمندر ہے۔ جبکہ شیروں کا مسکن ہونے کی وجہ سے اسے ملائی زبان میں سنگاپور کہا گیا۔ سنگاپور کی لمبائی 42 کلومیٹر اور چوڑائی 23 کلومیٹر ہے۔ اس کے اردگرد 50 ملحق چھوٹے جزائر بھی ہیں۔ ساحل 193 کلومیٹر ہے جبکہ کُل کا رقبہ 640 مربع کلومیٹر اور […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍ستمبر 2006ء میں مکرم م مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب مرحوم کے قلم سے سیرالیون کے چند احمدیوں کی بے مثال قربانیوں کا تذکرہ شامل اشاعت ہے۔ سیرالیون کے شہر کینیما (Kenema) سے بیس میل کے فاصلہ پر Nagowa ریاست میں ایک گاؤں Manokotohun میں ایک افریقن معلم پاہارون کے ذریعہ 1942ء […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍مئی 2006ء میں مکرم عبدالوہاب بن آدم صاحب امیر غانا کے قلم سے محترم مولوی بشارت احمد بشیر صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ جب مَیں ٹی آئی احمدیہ سیکنڈری سکول کماسی کا طالبعلم تھا تو محترم بشارت احمد بشیر صاحب بھی کماسی میں مقیم تھے۔ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍نومبر 2006ء میں مکرم میر غلام احمد نسیم صاحب نے احمدیہ مرکز سورینام کے حوالہ سے اپنی یادیں بیان کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ مَیں 5؍جنوری 1966ء کو جنوبی امریکہ کے ملک گی آنا پہنچا۔ کچھ عرصہ بعد ہمسایہ ملک سورینام جانے کا پروگرام بنا جو پہلے ڈَچ گی آنا کہلاتا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15جون 2005ء میں مشرقی افریقہ میں تبلیغ کے حوالہ سے مکرم محمد شفیق قیصر صاحب کا ایک معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے۔ مشرقی افریقہ میں کینیا، یوگنڈا، تنزانیہ، ملاوی (نیاسالینڈ) اور موزمبیق شامل ہیں۔ اسی طرح صومالیہ بھی براعظم افریقہ کے مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ روانڈا اور برونڈی بھی کسی وقت […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍اگست 2005ء میں وسطی افریقہ کے ملک ملاوی کا تفصیلی تعارف شامل اشاعت ہے۔ ملاوی ایک چھوٹا سا ملک ہے اور سارا سطح مرتفع کہلاتا ہے۔ زمین پتھریلی۔ مٹی کالی اور سرخی مائل ہے۔ اس مٹی میں خوبصورت رنگوں میں پتھر بکھرے پڑے ہیں۔ ملاوی ایک سر سبز وشاداب ملک ہے۔ ہر […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 18؍دسمبر 2004ء اور 4؍جولائی 2005ء میں مکرم میر غلام احمد نسیم صاحب کے قلم سے دو مضامین شامل ہیں جن میں جنوبی امریکہ کے ملک گی آنا کا تعارف کروایا گیا ہے اور یہاں اسلام اور احمدیت کی آمد اور ترقی کا مختصر ذکر کیا گیا ہے۔ گی آنا کو استعماری طاقتوں […]
جماعت احمدیہ برطانیہ کے ’’سیدنا طاہرؒ سووینئر‘‘ میں مکرم بشیر احمد صاحب کے قلم سے حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے تاریخی دورۂ انڈونیشیا کا حال رقم ہے جو کہ کسی بڑے مسلمان ملک کا کسی خلیفہ وقت کا پہلا دورہ تھا۔ مؤرخہ 19 جون 2000ء کو حضور انوررحمہ اللہ مع قافلہ براستہ ہالینڈ، انڈونیشیا کے لئے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23جون 2005ء میں روسی بادشاہوں (زاروں) کے مرکزی شہر سینٹ پیٹرز برگ کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون مکرم محمد ادریس چودھری صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ بحیرہ بالٹک کے ساحل پر پیٹراعظم نے قدم رکھنے کے بعد 16 مئی 1703ء کو سویڈن کی طرف سے آنے والے حملہ آوروں […]
مشرقی افریقہ میں احمدیت کا پیغام 1896ء کے آغازمیں حضرت مسیح موعودؑ کے دو صحابہ حضرت منشی محمد افضل صاحبؓ (ایڈیٹر اخبار البدر) اور حضرت میاں عبد اللہ صاحبؓ کے ذریعہ پہنچا جو یوگنڈا ریلوے میں بھرتی ہوکر کینیا کی بندرگاہ ممباسہ تشریف لے گئے تھے۔ ان کے بعد چند مزید صحابہؓ بھی وہاں گئے۔ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9مئی 2005ء میں محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد کے قلم سے مشرقی افریقہ میں احمدیت کی ابتدائی تاریخ شائع ہوئی ہے۔ شروع 1896ء میں حضرت مسیح موعودؑ کے دو صحابہ حضرت منشی محمد افضل صاحبؓ اور حضرت میاں عبداللہ صاحبؓ یوگنڈا ریلوے میں بھرتی ہوکر کینیا کالونی کی بندرگاہ ممباسہ میں […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23اپریل 2005ء میں محترم حافظ قدرت اللہ صاحب سابق مربی انڈونیشیا کے قلم سے انڈونیشیا میں اسلام کی آمد سے متعلق ایک تحقیقی مقالہ ماہنامہ ’’الفرقان‘‘ کی ایک پرانی اشاعت سے منقول ہے۔ انڈونیشیا میں اسلام کی ابتداء یہاں کے ساحلی علاقوں میں مسلمان تاجروں کے ذریعہ ہوئی۔ مگر اسلام کو یہاں […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍دسمبر 2004ء میں جماعت احمدیہ بینن کی ابتدائی تاریخ اور ترقیات کے بارہ میں مکرم صفدر نذیر گولیکی صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ 1957ء میں نائیجیریا سے تین افراد کا وفد بینن (Benin)کے شہر Portonovoمیں پہنچا جس کی قیادت مکرم الحاج سیکرو داؤدہ کررہے تھے جن کا تعلق پورتونووو سے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍دسمبر 2004ء میں نائیجیریا میں احمدیت کے آغاز سے متعلق ایک مضمون بقلم مکرم عبدالستار خان صاحب شامل اشاعت ہے۔ نائیجیریا میں احمدی مبلغین کی آمد سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے بعض سعید روحوں کو رؤیا وکشوف کے ذریعہ حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کی اطلاع دیدی تھی جن میں دارالحکومت […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍دسمبر 2004ء میں غانا مشن کی ابتدائی تاریخ سے متعلق مکرم فہیم احمد خادم صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ غانامیں اسلام 1872ء میں نائیجیریا کے اُن فوجی سپاہیوں کے ذریعہ آیا جو غانا کے اشانٹی قبیلہ کے خلاف برطانوی فوج میں شامل تھے۔ ان مسلم سپاہیوں میں ایک صاحب معلم […]
روزنامہ ’الفضل‘ ربوہ30؍اپریل 2005ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے 2004ء میں کئے جانے والے دورہ غانا کے چند روح پرور واقعات اور ایمان افروز جھلکیاں مکرم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب امیر و مبلغ انچارج غانا کے قلم سے شامل اشاعت ہیں۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے علم میں […]
انگریزوں کا دعویٰ ہے کہ آثار قدیمہ کے شواہد بتاتے ہیں کہ لندن قدیم رومی دور میں بھی ایک سرگرم مرکز تھا۔ یہ چھوٹا سا گاؤں صدیوں پہلے دریائے ٹیمز کے کنارے اس طرح بسایا گیا کہ دریا ایک طرف سے اس کی حفاظت کرتا تھا۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍جولائی 2004ء میں لندن کے بارہ […]