ماہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ ربوہ اگست2007ء میں مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب کے قلم سے ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سر سید احمد خان کے علم کلام کا تجزیہ غیرازجماعت علماء کی نظر سے پیش کیا گیا ہے۔ انیسویں صدی کے آغاز میں غیرمذاہب والے اُس زمانہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍جولائی 2007ء میں مکرم محمد افضل ظفر صاحب کے قلم سے حضرت مولوی ابوالعطاء جالندھری صاحب کی سیرۃ کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حضرت مولوی صاحب کو قرآن کریم سے عشق تھا۔ سفر میں اکثر وقت تلاوت یا مسنون دعاؤں کے ورد میں گزرتا۔ رمضان میں اپنے آرام کا […]
ماہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ ربوہ جولائی2007ء میں شائع ہونے والی مکرم ضیاء اللہ مبشر صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: گلشن میں نئے پھول کھلے ہیں جو سنبھالو غنچے ہیں ، انہیں تیز ہواؤں سے بچا لو پھینکا ہے جنہیں بادِ مخالف نے زمیں پر تم اپنا بنا لو انہیں مٹی سے اٹھا لو […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍دسمبر 2007ء میں مکرمہ ط۔- شکیل صاحبہ اپنے والد محترم ضیاء الدین حمید ضیاء صاحب کی زندگی سے چند اہم واقعات پیش کرتی ہیں۔ محترم ضیاء الدین صاحب 12؍ جولائی 1927ء کو یاری پورہ کشمیر میں حضرت حکیم نظام الدین صاحبؓ (سابق مربی کشمیر) کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ احمدیہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17 و 19؍ نومبر 2007ء میں محترم رانا منظور احمد صاحب نے اپنی یادوں کے حوالہ سے حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کی دلکش سیرۃ کو بیان کیا ہے۔ مضمون نگار کو قریباً تیس سال حضرت شیخ صاحب کی رفاقت میں دینی امور بجالانے کا موقع ملتا رہا۔ آپ لکھتے ہیں […]
ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ کے مئی 2007ء کے شمارہ میں حضرت قاضی ظہورالدین اکمل صاحبؓ کی خلافت سے متعلق ایک نظم شائع ہوئی ہے جس میں سے انتخاب پیش ہے: خلافت ارتقاءِ نسلِ انسانی کی صورت ہے یہ مومن صالح الاعمال کی جاوید دولت ہے خلافت ہی سے استحکام احکام شریعت ہے ٰخلافت ہی سے قطع […]
ہومیوپیتھی کے بانی ہانیمن کی زندگی کے بارہ میں قبل ازیں ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 17؍مئی 1996ء کے اِسی کالم میں ذکر کیا جاچکا ہے۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍جولائی 2007ء میں اخبار ’’نوائے وقت‘‘ کے حوالہ سے ایک اقتباس مکرم پروفیسر راجا نصراللہ خانصاحب کے مرسلہ مضمون میں شامل ہے جو ہانیمن کے قبول اسلام کے بارہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ سالانہ نمبر 2007ء میں قرآن کریم سے حضرت مسیح موعودؑ کے چند صحابہؓ کی محبت کے واقعات مکرم سہیل احمد ثاقب صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہیں۔ ٭ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک سے لے کر آج تک کوئی ایسا موقع نہیں […]
ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ دسمبر 2007ء میں شائع ہونے والی مکرم مبارک احمد عابد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ہم کو یہ چاہت کہاں تھی بے ارادہ ہوگئی بے قراری شوق کی حد سے زیادہ ہوگئی جونہی وہ محفل میں آیا دل کھنچے اُس کی طرف ہر کسی کی آنکھ محو استفادہ […]
٭ مکرمہ نینسی حبیبہ جیلانی صاحبہ رسالہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا اکتوبر2007ء میں مکرمہ نینسی حبیبہ جیلانی صاحبہ کی قبول احمدیت کی داستان شامل اشاعت ہے۔ آپ بیان کرتی ہیں کہ میں ایک مسلم گھرانے میں پلی بڑھی جہاں نماز اور قرآن کریم پڑھنا لازم تھا۔میرا مذہب کی طرف رجحان اُس وقت سے ہے جب میں […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍جولائی 2007ء میں مکرم چودھری شبیر احمد صاحب وکیل المال اوّل نے مکرم ملک محمد رفیق صاحب کا ذکرخیر کیا ہے۔ مضمون بیان کرتے ہیں کہ مجھے کئی ادوار میں محترم ملک محمد رفیق صاحب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اُن کا اخلاقی پہلو ہمیشہ نمایاں رہا۔ 1948ء میں فرقان […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم ناصر راجپوت صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ہو جائے گر اجازت کردوں بیاں یہ چاہت تسکینِ جان و دل ہے گلدستۂ خلافت سو سال کی کہانی اِک پل کا خواب گویا تعبیرِ خوابِ جنت ، فیض و نشاط و راحت جو ہم کو […]
جماعت احمدیہ اٹلی کے رسالہ ’’المنار‘‘ نومبر 2007ء تا جنوری 2008ء میں اٹلی اور سپین میں احمدیہ مشن کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مسلمانوں نے (711ء تا 1429ء) قریباً آٹھ سو برس تک نہایت شان و شوکت سے حکومت کی۔ مگر بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازبیلہ کے اس مشترکہ فرمان کے بعد […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم خالد ملک ساحل صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: اِس خلافت کے سو برس دیکھے بس محبت کے سو برس دیکھے ایک لمحہ بھی خیر کافی تھا پھر بھی قدرت کے سو برس دیکھے اُس کی تبلیغ ہر طرف دیکھی اُس کی وسعت کے […]
جماعت جرمنی کے ’’خلافت سووینئر‘‘ میں اب تک تعمیر کی جانے والی 23 احمدیہ مساجد کی مختصر تاریخ بھی بیان کی گئی ہے۔ ٭ جرمنی کی پہلی مسجد، مسجد فضل عمر ہمبرگ کا سنگ بنیاد 22؍فروری 1957ء کو محترم ملک عبدالرحمن صاحب نے رکھا۔ دیگر احمدی احباب کے علاوہ اعلیٰ سرکاری حکام اور پریس نمائندگان […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍اگست 2007ء میں مکرمہ ن۔رفیق فوزی صاحبہ کا ایک مضمون بعنوان ’’عراق کی قدیم تہذیب‘‘ شامل ہے۔ حضرت نوح کے سیلاب کا واقعہ قریباً پانچ ہزار سال قبل یعنی قریباً 3ہزار قبل مسیح رونما ہوا۔ سیلاب کے بعد حضرت نوح کے تینوں بیٹوں، سام ، حسام اور یافث کے ذریعے دنیا میں […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم عطاء المجیب راشد صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خلافت سے ہماری زندگی ہے خلافت سے ہی شانِ احمدی ہے خدا کی ذات کی زندہ گواہی اسی کے فیض سے ہم کو ملی ہے غم و آلام کا اکسیر مرہم ہر اِک بگڑی ہوئی […]
جماعت احمدیہ جرمنی کا صد سالہ خلافت احمدیہ جوبلی سووینئر A4 سائز کے تین صد سے زائد رنگین صفحات پر مشتمل ہے اور نہایت دیدہ زیب انداز میں اردو زبان میں شائع کیا گیا ہے۔ سرورق خوبصورت آرٹ کا نمونہ ہے۔ یہ سووینئر عمدہ کیلی گرافی، تاریخی و معلوماتی مضامین، خوبصورت نظموں اور بے شمار […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم مقصودالحق صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خلافت کی نعمت عطا جس نے کی ہے اسی کے تشکر کی یہ جوبلی ہے خوشی کی یہ ساعت بہت ہی بڑی ہے اور عہد آفریں اس کی اِک اِک گھڑی ہے دلوں سے نوائے ثنا اٹھ […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شائع کیا جانے والا سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کا یہ ارشاد ہمیشہ پیش نظر رکھے جانے کے لائق ہے: ’’بعض لوگ میری ذات کے ساتھ خصوصیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے مَیں صاف طور پر سنائے دیتا ہوں کہ محض کسی کی ذات سے تعلق رکھنے والے […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم میر اللہ بخش تسنیم صاحب کے طویل خوبصورت کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خلافت نے کیا کونین کا مقصود آدم کو خلافت نے فرشتوں کا کیا مسجود آدم کو خدا کا ہاتھ ہوتا ہے خلافت کے ارادوں میں مرادیں حق کی شامل ہیں خلافت کی […]
جماعت جرمنی کے ’’خلافت سووینئر‘‘ میں اُن ممالک کا بھی مختصر ذکر کیا گیا ہے جن میں احمدیت کا نفوذ جماعت جرمنی کے ذریعہ ہوا۔ ٭ بلغاریہ میں پہلی بیعت مکرم ارجان صاحب (ARJAN ) نے کی جو جرمنی میں مقیم تھے۔ اِس وقت بلغاریہ میں مضبوط نظام جماعت اور نظام وصیت بھی قائم ہے۔ […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم ڈاکٹر وسیم احمد طاہر صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: کروں کیا بیاں مَیں ثنائے خلافت کہ خود مدح خواں ہے خدائے خلافت مسلماں اکٹھے ہوں اِک ہاتھ پر پھر یہ ممکن نہیں ہے سوائے خلافت بظاہر خلافت سے ہیں جو گریزاں ہے اُن […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں جماعت احمدیہ جرمنی کی تاریخ بھی شامل اشاعت ہے۔ اس بارہ میں قبل ازیں ہفت روزہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 6؍ستمبر 2002ء کے اسی کالم میں اختصار سے ذکر کیا جاچکا ہے۔ یورپ میں پہلا احمدیہ مشن لندن میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے دَور میں قائم ہوا۔ حضرت مصلح […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍اگست 2007ء میں گوانتاناموبے پر امریکی قبضہ سے متعلق ایک مضمون شامل اشاعت ہے ۔ امریکہ کی توسیع پسندی کی پالیسی کے نتیجہ میں جنوبی امریکہ کی کئی ریاستوں کو پہلے ہی بہ زور اپنے ساتھ شامل کر لیا گیا۔ پھر بیشتر ممالک پر امریکی فوجیں متعدد بار حملہ کر چکی ہیں۔ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍اگست 2007ء میں مکرم مظفر احمد درانی صاحب کے قلم سے محترم مولانا بشیر احمد اختر صاحب کا ذکر خیر شامل اشاعت ہے۔ محترم مولانا بشیر احمد اختر صاحب سابق امیر و مربی انچارج کینیا سے میرا پہلا رابطہ خط کے ذریعہ اُس وقت ہوا جب 1992ء میں خاکسار کا تقرر کینیا […]