جماعت احمدیہ اٹلی کے رسالہ ’’المنار‘‘ نومبر 2007ء تا جنوری 2008ء میں اٹلی اور سپین میں احمدیہ مشن کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مسلمانوں نے (711ء تا 1429ء) قریباً آٹھ سو برس تک نہایت شان و شوکت سے حکومت کی۔ مگر بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازبیلہ کے اس مشترکہ فرمان کے بعد […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم خالد ملک ساحل صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: اِس خلافت کے سو برس دیکھے بس محبت کے سو برس دیکھے ایک لمحہ بھی خیر کافی تھا پھر بھی قدرت کے سو برس دیکھے اُس کی تبلیغ ہر طرف دیکھی اُس کی وسعت کے […]
جماعت جرمنی کے ’’خلافت سووینئر‘‘ میں اب تک تعمیر کی جانے والی 23 احمدیہ مساجد کی مختصر تاریخ بھی بیان کی گئی ہے۔ ٭ جرمنی کی پہلی مسجد، مسجد فضل عمر ہمبرگ کا سنگ بنیاد 22؍فروری 1957ء کو محترم ملک عبدالرحمن صاحب نے رکھا۔ دیگر احمدی احباب کے علاوہ اعلیٰ سرکاری حکام اور پریس نمائندگان […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍اگست 2007ء میں مکرمہ ن۔رفیق فوزی صاحبہ کا ایک مضمون بعنوان ’’عراق کی قدیم تہذیب‘‘ شامل ہے۔ حضرت نوح کے سیلاب کا واقعہ قریباً پانچ ہزار سال قبل یعنی قریباً 3ہزار قبل مسیح رونما ہوا۔ سیلاب کے بعد حضرت نوح کے تینوں بیٹوں، سام ، حسام اور یافث کے ذریعے دنیا میں […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم عطاء المجیب راشد صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خلافت سے ہماری زندگی ہے خلافت سے ہی شانِ احمدی ہے خدا کی ذات کی زندہ گواہی اسی کے فیض سے ہم کو ملی ہے غم و آلام کا اکسیر مرہم ہر اِک بگڑی ہوئی […]
جماعت احمدیہ جرمنی کا صد سالہ خلافت احمدیہ جوبلی سووینئر A4 سائز کے تین صد سے زائد رنگین صفحات پر مشتمل ہے اور نہایت دیدہ زیب انداز میں اردو زبان میں شائع کیا گیا ہے۔ سرورق خوبصورت آرٹ کا نمونہ ہے۔ یہ سووینئر عمدہ کیلی گرافی، تاریخی و معلوماتی مضامین، خوبصورت نظموں اور بے شمار […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم مقصودالحق صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خلافت کی نعمت عطا جس نے کی ہے اسی کے تشکر کی یہ جوبلی ہے خوشی کی یہ ساعت بہت ہی بڑی ہے اور عہد آفریں اس کی اِک اِک گھڑی ہے دلوں سے نوائے ثنا اٹھ […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شائع کیا جانے والا سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کا یہ ارشاد ہمیشہ پیش نظر رکھے جانے کے لائق ہے: ’’بعض لوگ میری ذات کے ساتھ خصوصیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے مَیں صاف طور پر سنائے دیتا ہوں کہ محض کسی کی ذات سے تعلق رکھنے والے […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم میر اللہ بخش تسنیم صاحب کے طویل خوبصورت کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خلافت نے کیا کونین کا مقصود آدم کو خلافت نے فرشتوں کا کیا مسجود آدم کو خدا کا ہاتھ ہوتا ہے خلافت کے ارادوں میں مرادیں حق کی شامل ہیں خلافت کی […]
جماعت جرمنی کے ’’خلافت سووینئر‘‘ میں اُن ممالک کا بھی مختصر ذکر کیا گیا ہے جن میں احمدیت کا نفوذ جماعت جرمنی کے ذریعہ ہوا۔ ٭ بلغاریہ میں پہلی بیعت مکرم ارجان صاحب (ARJAN ) نے کی جو جرمنی میں مقیم تھے۔ اِس وقت بلغاریہ میں مضبوط نظام جماعت اور نظام وصیت بھی قائم ہے۔ […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم ڈاکٹر وسیم احمد طاہر صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: کروں کیا بیاں مَیں ثنائے خلافت کہ خود مدح خواں ہے خدائے خلافت مسلماں اکٹھے ہوں اِک ہاتھ پر پھر یہ ممکن نہیں ہے سوائے خلافت بظاہر خلافت سے ہیں جو گریزاں ہے اُن […]
جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں جماعت احمدیہ جرمنی کی تاریخ بھی شامل اشاعت ہے۔ اس بارہ میں قبل ازیں ہفت روزہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 6؍ستمبر 2002ء کے اسی کالم میں اختصار سے ذکر کیا جاچکا ہے۔ یورپ میں پہلا احمدیہ مشن لندن میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے دَور میں قائم ہوا۔ حضرت مصلح […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍اگست 2007ء میں گوانتاناموبے پر امریکی قبضہ سے متعلق ایک مضمون شامل اشاعت ہے ۔ امریکہ کی توسیع پسندی کی پالیسی کے نتیجہ میں جنوبی امریکہ کی کئی ریاستوں کو پہلے ہی بہ زور اپنے ساتھ شامل کر لیا گیا۔ پھر بیشتر ممالک پر امریکی فوجیں متعدد بار حملہ کر چکی ہیں۔ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍اگست 2007ء میں مکرم مظفر احمد درانی صاحب کے قلم سے محترم مولانا بشیر احمد اختر صاحب کا ذکر خیر شامل اشاعت ہے۔ محترم مولانا بشیر احمد اختر صاحب سابق امیر و مربی انچارج کینیا سے میرا پہلا رابطہ خط کے ذریعہ اُس وقت ہوا جب 1992ء میں خاکسار کا تقرر کینیا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍اگست 2007ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالمنان ناہید صاحب کی نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: بجز ترے فضل کے الٰہی سلوکِ نجات کیا ہے تُو جانتا ہے کہ لغزش پا ہے کیا ، قدم کا ثبات کیا ہے حیات پر بھی، ممات پر بھی ، تمام تر اختیار تیرا مجھے تو […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍اکتوبر 2007ء میں مکرمہ سیدہ امۃالوحید صاحبہ اپنی والدہ محترمہ حنیفہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم سید عبدالرزاق شاہ صاحب کا ذکرخیر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ میری والدہ 1914ء میں آئرلینڈ میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد آئرش اور والدہ برٹش تھیں۔ آپ کا نام کیتھلین تھا۔ آپ نے بارہ سال کی […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍اگست 2007ء میں نامور مسلمان سائنسدان محمد بن موسیٰ خوارزمی کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے۔ محمد ابن موسیٰ غالباً 780ء میں خیوا (خوارزم) میں پیدا ہوا۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید کے دَور میں جب بغداد میں سائنسی ترقی کا سنہری دور شروع ہوا اور علمی اور تحقیقی کاموں […]
جماعت احمدیہ ناروے کے رسالہ ’’الجہاد‘‘ مارچ 2007ء میں مکرم چودھری شاہد محمود کاہلوں صاحب کے مضمون میں آنحضرتﷺ کو غیروں کی طرف سے پیش کئے جانے والے خراجِ عقیدت کے چند نمونے نقل کئے گئے ہیں۔ ٭ ڈاکٹر Gustav Wail لکھتے ہیں کہ ’’محمدؐ نے اپنے لوگوں کے لئے ایک روشن نمونہ قائم کیا۔ […]
ماہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ ربوہ مئی2007ء میں شائع شدہ مکرم لئیق احمد عابد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: ہیں تیرے نقش پا روشنی کے دیے تو سراپا محبت ہے سب کے لیے میرا آقا ہے تو ، عبدِ رحمن ہے تیرے قدموں میں رہنا میری شان ہے جس نے دیکھا تجھے وہ تیرا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍جولائی 2007ء میں جماعت کے دیرینہ خادم، ماہر گھوڑ سوار اور نیزہ باز محترم چوہدری اللہ داد صاحب کی یاد میں ایک مضمون مکرم ملک پرویز احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ محترم چوہدری اللہ داد صاحب ابن چوہدری ولی داد صاحب 1920ء میں گجرات کے گاؤں اسماعیلہ میں پیدا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍جولائی 2007ء میں شامل اشاعت مکرم طارق محمود سدھو صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: آپ جب ہم سفر نہیں ہوتے راستے مختصر نہیں ہوتے عشق میں ہوش گو نہیں رہتا یوں مگر در بدر نہیں ہوتے پیار میں جب کسی کے ہو جائیں اس سے پھر بے خبر […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍اگست 2007ء میں مکرم افتخار احمد انور صاحب نے اپنے والد محترم حکیم محمد یار صاحب سدھو آف جل بھٹیاں کا ذکرخیر کیا ہے۔ محترم حکیم محمد یار صاحب 1937 ء میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ہی آپ کے والد محترم میاں احمد یار صاحب کا انتقال ہوگیا۔ آپ چار بھائی اور […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍دسمبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم سلیم شاہجہانپوری صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: دل میں ہے کوئی تمنا نہ الم ہے ہم کو ایک فقط تیرے بچھڑ جانے کا غم ہے ہم کو غم فردا ، غم دنیا ، غم عقبیٰ ، غم عشق جس قدر چاہے یہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ 4؍اگست 2007ء میں مکرم راجہ غالب احمد صاحب کے قلم سے، اُن کے مشاہدات کے حوالہ سے، حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خانصاحبؓ سے خاکسار کی پہلی ذاتی ملاقات 1935ء میں ہوئی۔ میری عمر اس وقت سات سال کے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍دسمبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالسلام اسلام صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: قرآن وہ کتاب ہے جس کا نہیں جواب اس کی تجلّیات سے اٹھتے ہیں سب حجاب ہاں چھیڑتا ہے فطرتِ انساں کا ساز یہ ہر آنکھ پر ہے کھولتا ہستی کا راز یہ قرآں محیط […]
ماہنامہ ’’خالد‘‘ دسمبر 2007ء میں مارشل آرٹ کے عظیم کردار بروس لی کے بارہ میں مکرم قیصر محمود صاحب کا ایک معلوماتی مضمون شامل ہے۔ ہانگ کانگ کی ایک گلی میں لڑائی کے مقابلہ میں ایک بیس سالہ لڑکے نے دوسرے کو لڑائی میں شدید زخمی کردیا تو معاملہ پولیس تک جا پہنچا۔ تاہم لڑکے […]