’’وہ جلد جلد بڑھے گا‘‘۔ پیشگوئی مصلح موعود

تقسیم ہند کے وقت مرکز سلسلہ قادیان سے احمدی آبادی کا انخلا اور پھر نوزائیدہ مملکت پاکستان میں ان کی مناسب آبادکاری کا عظیم کام، نئے مرکز ربوہ کا قیام، ویرانے کو شہر میں بدل ڈالنے کا عزم اور تبلیغ و اشاعت کا کام پہلے سے بڑھ کر کرتے چلے جانا … یہ سب اس…

موئن جو دڑو

موئن جو دڑو سندھی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’’مُردوں کا ٹیلہ‘‘۔ اس کی دریافت سے قبل خیال تھا کہ اس خطہ میں آریہ قوم نے اعلیٰ تہذیب کی داغ بیل ڈالی۔ لیکن 1922ء میں آر جی بینرجی اور دوسرے ماہرین لاڑکانہ میں بدھ کے دَور کے ایک اسٹوپا کی تلاش میں…

محترم جنرل عبدالعلی ملک صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍ستمبر1998ء میں آغا بابر کے قلم سے محترم جنرل عبدالعلی ملک صاحب کے حسنِ کردار اور شجاعت کے بارے میں ایک مضمون ’’پاکستان لنک‘‘ (نیویارک) سے منقول ہے۔ مضمون نگار کا بیان ہے کہ جنرل ملک جب کرنل تھے تو میری اُن سے ملاقات سیالکوٹ میں ہوئی۔ بڑے دھیمے مزاج میں آہستہ…

حضرت چودھری محمد ظفراللہ خانصاحب رضی اللہ عنہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ 2؍مارچ 1999ء میں حضرت چودھری محمد ظفراللہ خانصاحبؓ کے بعض واقعات بیان کرتے ہوئے مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب رقمطراز ہیں کہ 1953ء میں جب آپؓ پاکستان کے قائمقام وزیر اعظم کی حیثیت سے لاہور تشریف لائے تو مجھے جماعتی طور پر پیغام ملا کہ جمعہ کے روز چونکہ آپؓ خطبہ جمعہ…

ہڑپہ کے آثارِ قدیمہ

ایک ماہر آثار قدیمہ جوناتھن مارک کی تحقیق کے مطابق ہڑپائی تہذیب بلوچستان کے بالائی علاقوں سے شروع ہوکر مغرب تک اور شمالی پاکستان، افغانستان اور انڈیا سے جنوب مغرب اور شمال تک پھیلی ہوئی تھی اور دو بڑے دریا سندھ اور گھاگر اسے سیراب کرتے تھے- یہ تہذیب قدیم مصری تہذیب موسوپوٹامیہ (عراق) کی…

ہرن مینار شیخوپورہ

لاہور سے پچیس میل کے فاصلہ پر شیخوپورہ کا شہر آباد ہے جسے مغلیہ دور میں جہانگیر پور اور جہانگیر آباد بھی کہا جاتا تھا- یہ جہانگیر کی محبوب ترین شکارگاہ تھی اور یہاں اُس نے اپنے منس راج نامی ایک محبوب ہرن کی قبر پر ایک مینار تعمیر کروایا تھا اور ہرن کا شکار…

قلعہ بالا حصار پشاور

بالاحصار فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اونچی جگہ یا بلند قلعہ- روایت ہے کہ یہ نام اس افغان بادشاہ تیمور نے دیا تھا جسے سکھوں نے سمیرگڑھ سے بدل دیا لیکن اِس نام نے شہرت نہ پائی- یہ قلعہ دو سے اڑہائی ہزار سال پرانا ہے اور اس کی ابتدائی تاریخ…

موتی مسجد

موتی مسجد لاہور اگرچہ رقبہ کے لحاظ سے چھوٹی ہے لیکن خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے- اسے 1753ء میں نواب میر سید بھکاری خان نے تعمیر کروایا تھا جو لاہور کے وائسرائے میر منو کے درباری تھے اور پھر پنجاب کے نائب صوبیدار بنائے گئے- وہ ایک دیندار، سخی، عالم فاضل اور فقیر دوست…

مقبرہ نور جہاں لاہور

ایک ایرانی نژاد مرزا غیاث بیگ نے افلاس سے تنگ آکر ایران سے ہجرت کی اور ہندوستان آکر دربارِ اکبری سے وابستہ ہوگیا- اُس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام مہرالنساء تھا جس نے تاریخ میں نورجہاں کے نام سے شہرت پائی- اُس کی پہلی شادی ایک ایرانی باشندے شیرافگن سے ہوئی جس کا…

شاہی قلعہ لاہور

لاہور کا شاہی قلعہ پاکستان میں موجود مغلیہ دور کے آثار میں سے ایک عظیم الشان یادگار ہے- اس کا طول 1500؍ فُٹ اور عرض 1200؍ فُٹ ہے- اس بارے میں ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍ اگست 1998ء میں مکرم شمشاد احمد قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے- اس قلعے کی بنیاد…

مقبرہ جہانگیر لاہور

مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر اعظم کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا- 1605ء میں تخت نشین ہوا اور قریباً ساڑھے اکیس سال نہایت شان سے حکومت کرکے 8؍نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا-…

مسجد وزیرخان لاہور

اپنی بے پناہ خوبصورتی، وسعت اور نقش و نگار کے باعث فنّی اعتبار سے نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھی جانے والی مسجد وزیر خان لاہور کی بنیاد چنیوٹ کے رہنے والے شیخ علیم الدین نے رکھی تھی جو ایک طبیب تھے اور شاہجہان کے دربار میں رفتہ رفتہ وزیر کے عہدے تک جا پہنچے…

بادشاہی مسجد لاہور

برصغیر میں مسلمانوں کی تعمیراتی تاریخ میں اہم اور پرشکوہ عمارات سب سے پہلے بھنبھور میں تعمیر ہوئیں جو محمد بن قاسم کی آمد سے مرکز اسلام بنا تھا۔ بعد ازاں یہ سلسلہ جاری رہا۔ 1674ء میں مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے لاہور میں بادشاہی مسجد تعمیر کروائی جسے ماہرینِ تعمیرات برصغیر میں مساجد…

پاک فوج کا سب سے بڑا جنرل – جنرل اختر ملک

کرنل (ر) رفیع الدین اپنی کتاب بھٹو کے آخری 323 دن صفحہ66 پر لکھتے ہیں:- ’’ایک دن پاک بھارت جنگ 1965ء کا ذکر چھڑا۔ میں نے بھٹو صاحب سے پوچھا کہ جناب آپ اس زمانہ میں وزیر خارجہ تھے۔ ہمارے فارن آفس نے اس جنگ سے پہلے یہ کیوں نہ سوچا کہ ہندوستان ہماری سرحدوں…

پاکستان کے چند قومی ہیرو میدانِ جہاد میں

ماہنامہ ’’خالد‘‘ گولڈن جوبلی نمبر میں مکرم فخرالحق شمس صاحب نے اپنے مضمون میں میدانِ جہاد میں عسکری خدمات بجالانے والے بعض احمدیوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے: جنرل اختر حسین ملک آپ یکم اگست 1917ء کو پنڈوری ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ 1940ء میں مسلح افواج میں کمیشن حاصل…

ایک بااصول اور بامراد راہنما – محمد علی جناح

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اپنے روشن ضمیر، شفاف کردار اور دیانت داری کی وجہ سے ایک بااصول سیاسی راہنما کے طور پر برصغیر کے افق پر چمکے۔ آپ کے بارے میں مکرم ناصر احمد صاحب طاہر کا ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ گولڈن جوبلی نمبر میں شامل اشاعت ہے۔ ٭ ایک دفعہ ایک…

وہ نابغہ روزگارشخص – محترم ڈاکٹر محمد عبدالسلام صاحب

پروفیسر لالہ ایش کمار انگریزی کے استاد تھے اور آپکے شاگردوں میں ڈاکٹر عبدالسلام بھی شامل تھے۔ آپ کا بیان ہے کہ دہلی یونیورسٹی نے ڈاکٹر عبدالسلام کے اعزاز میں نوبل پرائز حاصل کرنے کے بعد ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں وزیراعظم بھارت نے بھی شرکت کی، دو تین ہزار سامعین میں وزیروں…

محترم ڈاکٹر محمد عبدالسلام صاحب سے تعصب و عناد کا ایک اظہار

محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا تعلیمی کیریئر تو ہر لحاظ سے شاندار تھا ہی لیکن اپنے زمانہ طالبعلمی کے دوران 1945ء میں گورنمنٹ کالج یونین کے صدر رہے اور نیو ہاسٹل کمیٹی کے صدر بھی ۔مجلہ ’’راوی‘‘ کے اردو اور انگریزی حصوں کے ایڈیٹر بھی رہے۔ لیکن 1989ء میں گورنمنٹ کالج لاہور نے اپنی 125…

محترم ڈاکٹر محمد عبدالسلام صاحب – ایک عہد ساز شخصیت

محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے ایک شاگرد پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضی صاحب (ڈین فیکلٹی آف نیچرل سائنسز قائداعظم یونیورسٹی ، اسلام آباد) اپنے مضمون میں محترم ڈاکٹر صاحب کی شاندار علمی و انتظامی قابلیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سلام صاحب کا تمام خوبیوں کے باوجود نوبل انعام حاصل کرنا آسان کام نہ…

محترم ڈاکٹر محمد عبدالسلام صاحب کے ایک انٹرویوسے مختصر نکات

محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے نوبل انعام حاصل کرنے کے بعد اپنے ایک انٹرویو میں بیان فرمایا: ٭ میں دنیا کے بیسیوں سائنسدانوں اور سینکڑوں دانشوروں سے ملا ہوں اور میرا یہ مشاہدہ ہے کہ خدا پر ایمان رکھنے والا انسان، بہرصورت، خدا کو نہ ماننے والے انسان سے بہتر ہوتا ہے۔ ٭ میری زندگی…

محترم ڈاکٹر محمد عبدالسلام صاحب – از متفرق احباب

محترم ڈاکٹر صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے آپ کی ہمشیرہ مکرمہ بشریٰ حمید صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ آپ جب بھی پاکستان آتے تو ربوہ کا پروگرام ضرور رکھتے جس کا مقصد صرف خلیفہ وقت سے ملاقات اور بزرگوں کی قبروں پر دعا کرنا ہوتا۔ مختصر سے وقت میں سب کو مل بھی لیتے۔……

محترم ڈاکٹر محمد عبدالسلام صاحب

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ، دسمبر 1997ء، محترم ڈاکٹر محمد عبدالسلام صاحب کے حوالے سے خصوصی اشاعت ہے اور شاندار مضامین، تبصروں اور تصاویر سے مزین ہے۔ چونکہ اس شمارے میں شائع شدہ بعض مضامین اور اقتباسات قبل ازیں ہفت روزہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ میں شائع ہوچکے ہیں اس لئے ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ میں صرف ایسے مضامین کو زیر…

محترم خلیفہ منیرالدین احمد شہید

حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحبؓ کی وفات سے چھ ماہ قبل ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام حضرت مصلح موعودؓ نے منیرالدین احمد رکھا۔ یہ بچہ قادیان میں ہی بہت نازو نعم میں پلا۔تعلیم الاسلام ہائی سکول سے میٹرک کیا۔ شکار اور ہاکی کھیلنے کا بے حد شوقین تھا۔ تقسیمِ ہندوستان…

پاکستان کے ہونہار احمدی فرزند – ڈاکٹر میر مشتاق احمد صاحب

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کی گولڈن جوبلی اشاعت میں مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب نے اپنے مضمون میں بہت سے احمدیوں کی وطن کی خدمات پر مختصر روشنی ڈالی ہے جن میں حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب، محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب، محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب، حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب،…

پاکستان کے ہونہار احمدی فرزند – جناب قلندر مومند صاحب

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کی گولڈن جوبلی اشاعت میں مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب نے اپنے مضمون میں بہت سے احمدیوں کی وطن کی خدمات پر مختصر روشنی ڈالی ہے جن میں حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب، محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب، محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب، حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب،…

برّصغیر کی پہلی مسلمان خاتون صحافی – محترمہ بیگم شفیع صاحبہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍ اگست 1997ء کا شمارہ پاکستان کے یوم آزادی نمبر کے طور پر شائع ہوا ہے جس میں تحریک پاکستان کی نامور مجاہدہ اور برصغیر کی پہلی مسلمان صحافی خاتون محترمہ قریشیہ سلطانہ المعروف بیگم شفیع کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون آپ کی بیٹی مکرمہ سیدہ نسیم سعید صاحبہ کے قلم…