آل انڈیا کشمیر کمیٹی 1931ء میں قائم ہوئی جس کے پہلے صدر حضرت مصلح موعودؓ تھے۔ اس کمیٹی کی مساعی کے نتیجہ میں کشمیریوں کو حقوق ملنے کا آغاز ہوگیا اور کئی کشمیری رہا کردیئے گئے۔ کشمیر کمیٹی کی کامیابیوں کو دیکھ کر برصغیر کی بعض سیاسی اور مذہبی شخصیات نے اپنے خاص مقاصد حاصل […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍مئی 2002ء میں ممتاز قانون دان اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج مکرم شیخ بشیر احمد صاحب کا ذکر خیر اُن کی بیٹی مکرمہ نعیمہ جمیل صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ محترم شیخ بشیر احمد صاحب کی پیدائش حضرت شیخ مشتاق حسین صاحبؓ کے ہاں 23؍اپریل 1902ء کو ہوئی۔اوائل […]
باسکٹ بال کے بانی ڈاکٹر جیمز سمتھ ہیں جو کینیڈین نژاد تھے اور امریکہ میں فزیکل ایجوکیشن کے استاد اور سکول کی فٹ بال ٹیم کے کوچ تھے۔ 1891ء کی شدید سردی میں جو فٹ بال کھیلنا ناممکن ہوگیا تو انہوں نے سکول کے سپرنٹنڈنٹ سٹیبن سے اس بارہ میں تبادلہ خیال کیا کہ کسی […]
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے کوہستان نمک کے دامن میں دریائے جہلم کے کنارے پر ایک قدیم قصبہ بھیرہ آباد ہے۔ ایک مؤرخ کے مطابق اس کا نام راجہ بھدراسین کے نام پر بھدروی نگر یا بھدرواتی نگر تھا۔ العتبی نے اس کا ذکر بَتْیَہ یا بھدیہ کے نام سے کیا ہے۔ سکندراعظم کے […]
پاکستانی فوج میں جو احمدی پہلی مرتبہ جرنیلی کے رتبہ پر فائز ہوئے وہ محترم جنرل نذیر احمد صاحب تھے۔ کچھ عرصہ پہلے برطانوی حکومت نے تقسیم ہند کے وقت انتقال اقتدار کے تمام کاغذات تاریخ محفوظ رکھنے کی غرض سے شائع کردئے ہیں۔ ان میں ایک جگہ وائسرائے کا کمانڈر انچیف کے نام خط […]
قبل ازیں 5؍فروری 1999ء اور 15؍ستمبر 2000ء کے شماروں کے اسی کالم الفضل ڈائجسٹ میں محترم عبیداللہ علیم صاحب کا ذکر خیر کیا گیا تھا۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29 و 31؍جنوری 2000ء کے شماروں میں آپ کے بارہ میں مکرمہ فرح نادیہ صاحبہ کا ایک تفصیلی مضمون شامل اشاعت ہے جس میں بیان کئے جانے […]
قائد اعظم محمد علی جناح ایک انتہائی بااصول شخص تھے اور اُنہوں نے اپنی ساری زندگی ایک ضابطہ کے تحت گزاری جس کا اعتراف اُن کے سیاسی مخالفین نے بھی کیا۔ اُنکی زندگی سے منتخب واقعات ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ دسمبر 1999ء میں مکرم عمران بدر ہاشمی صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہیں۔ قیام پاکستان کے […]
جب انگریزوں نے گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھ کشمیری قوم کو 75 لاکھ روپیہ میں بیچ دیا۔ پھر کشمیریوں کو نہ اپنی زمین پر کوئی حق رہا نہ جان پر۔ گلاب سنگھ ڈوگرہ پنجاب کا وزیراعظم تھا۔ اُس نے انگریزوں سے سازباز کرکے پنجاب پر انگریزوں کا قبضہ کرادیا اور اس غداری کے عوض 75ہزار […]
ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اکتوبر 1999ء میں محترم عبیداللہ علیم صاحب کی سوانح حیات اور آپ کے کلام کے حوالہ سے مکرم محمد آصف ڈار صاحب کا ایک تفصیلی مضمون شامل اشاعت ہے۔ محترم علیم صاحب 12؍جون 1939ء کو بھوپال میں محلہ چندپورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مکرم رحمت اللہ بٹ صاحب اوورسیئر تھے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍دسمبر 1999ء میں انسائیکلوپیڈیا قائد اعظم (شائع کردہ مقبول اکیڈمی) سے منتخب اقتباسات پیش کئے گئے ہیں۔ یہ مضمون مکرم محمد سعید احمد صاحب نے مرتب کیا ہے۔ قائد اعظم نے جس آخری سرکاری دستاویز پر دستخط ثبت کئے اُس میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لئے سر محمد […]
کوہستان نمک (کھیوڑہ) کی سترہ منزلہ اور 120؍کلومیٹر لمبی کان سطح سمندر سے نو سو فٹ بلند ہے۔ اس میں دنیا کا 80فیصد قدرتی نمک پایا جاتا ہے۔ یہ 260؍کلومیٹر لمبے اور 16؍کلومیٹر چوڑے پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے اور 327؍ق۔م پرانی ہے۔ صدیوں سے یہاں سے نمک کی پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔ سکندراعظم […]
ہفت روزہ ’’سیرروحانی ‘‘ اگست 2000ء میں پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع وادیٔ کیلاش (چترال) کے بارہ میں معلوماتی مضمون مکرم منصور نورالدین صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ اس وادی کو چاروں طرف سے ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے نے گھیر رکھا ہے جسے مختلف درّے سوات، گلگت اور دیگر علاقوں سے […]
پاکستان کے نامور سائنس دان پروفیسر غلام مرتضیٰ صاحب نے امپیریل کالج لندن سے محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی زیر سرپرستی Ph.D. کی ڈگری حاصل کی۔ 36 سال سے وہ تدریس و تحقیق میں مصروف ہیں اور ان کے 134 تحقیقی مضامین غیرملکی اعلیٰ سائنسی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ نیز ان کی 29؍کتب ہیں […]
تقسیم ہند کے وقت مرکز سلسلہ قادیان سے احمدی آبادی کا انخلا اور پھر نوزائیدہ مملکت پاکستان میں ان کی مناسب آبادکاری کا عظیم کام، نئے مرکز ربوہ کا قیام، ویرانے کو شہر میں بدل ڈالنے کا عزم اور تبلیغ و اشاعت کا کام پہلے سے بڑھ کر کرتے چلے جانا … یہ سب اس […]
موئن جو دڑو سندھی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’’مُردوں کا ٹیلہ‘‘۔ اس کی دریافت سے قبل خیال تھا کہ اس خطہ میں آریہ قوم نے اعلیٰ تہذیب کی داغ بیل ڈالی۔ لیکن 1922ء میں آر جی بینرجی اور دوسرے ماہرین لاڑکانہ میں بدھ کے دَور کے ایک اسٹوپا کی تلاش میں […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍ستمبر1998ء میں آغا بابر کے قلم سے محترم جنرل عبدالعلی ملک صاحب کے حسنِ کردار اور شجاعت کے بارے میں ایک مضمون ’’پاکستان لنک‘‘ (نیویارک) سے منقول ہے۔ مضمون نگار کا بیان ہے کہ جنرل ملک جب کرنل تھے تو میری اُن سے ملاقات سیالکوٹ میں ہوئی۔ بڑے دھیمے مزاج میں آہستہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ 2؍مارچ 1999ء میں حضرت چودھری محمد ظفراللہ خانصاحبؓ کے بعض واقعات بیان کرتے ہوئے مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب رقمطراز ہیں کہ 1953ء میں جب آپؓ پاکستان کے قائمقام وزیر اعظم کی حیثیت سے لاہور تشریف لائے تو مجھے جماعتی طور پر پیغام ملا کہ جمعہ کے روز چونکہ آپؓ خطبہ جمعہ […]
ایک ماہر آثار قدیمہ جوناتھن مارک کی تحقیق کے مطابق ہڑپائی تہذیب بلوچستان کے بالائی علاقوں سے شروع ہوکر مغرب تک اور شمالی پاکستان، افغانستان اور انڈیا سے جنوب مغرب اور شمال تک پھیلی ہوئی تھی اور دو بڑے دریا سندھ اور گھاگر اسے سیراب کرتے تھے- یہ تہذیب قدیم مصری تہذیب موسوپوٹامیہ (عراق) کی […]
لاہور سے پچیس میل کے فاصلہ پر شیخوپورہ کا شہر آباد ہے جسے مغلیہ دور میں جہانگیر پور اور جہانگیر آباد بھی کہا جاتا تھا- یہ جہانگیر کی محبوب ترین شکارگاہ تھی اور یہاں اُس نے اپنے منس راج نامی ایک محبوب ہرن کی قبر پر ایک مینار تعمیر کروایا تھا اور ہرن کا شکار […]
بالاحصار فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اونچی جگہ یا بلند قلعہ- روایت ہے کہ یہ نام اس افغان بادشاہ تیمور نے دیا تھا جسے سکھوں نے سمیرگڑھ سے بدل دیا لیکن اِس نام نے شہرت نہ پائی- یہ قلعہ دو سے اڑہائی ہزار سال پرانا ہے اور اس کی ابتدائی تاریخ […]
موتی مسجد لاہور اگرچہ رقبہ کے لحاظ سے چھوٹی ہے لیکن خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے- اسے 1753ء میں نواب میر سید بھکاری خان نے تعمیر کروایا تھا جو لاہور کے وائسرائے میر منو کے درباری تھے اور پھر پنجاب کے نائب صوبیدار بنائے گئے- وہ ایک دیندار، سخی، عالم فاضل اور فقیر دوست […]
ایک ایرانی نژاد مرزا غیاث بیگ نے افلاس سے تنگ آکر ایران سے ہجرت کی اور ہندوستان آکر دربارِ اکبری سے وابستہ ہوگیا- اُس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام مہرالنساء تھا جس نے تاریخ میں نورجہاں کے نام سے شہرت پائی- اُس کی پہلی شادی ایک ایرانی باشندے شیرافگن سے ہوئی جس کا […]
لاہور کا شاہی قلعہ پاکستان میں موجود مغلیہ دور کے آثار میں سے ایک عظیم الشان یادگار ہے- اس کا طول 1500؍ فُٹ اور عرض 1200؍ فُٹ ہے- اس بارے میں ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍ اگست 1998ء میں مکرم شمشاد احمد قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے- اس قلعے کی بنیاد […]
مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر اعظم کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا- 1605ء میں تخت نشین ہوا اور قریباً ساڑھے اکیس سال نہایت شان سے حکومت کرکے 8؍نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا- […]
اپنی بے پناہ خوبصورتی، وسعت اور نقش و نگار کے باعث فنّی اعتبار سے نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھی جانے والی مسجد وزیر خان لاہور کی بنیاد چنیوٹ کے رہنے والے شیخ علیم الدین نے رکھی تھی جو ایک طبیب تھے اور شاہجہان کے دربار میں رفتہ رفتہ وزیر کے عہدے تک جا پہنچے […]
برصغیر میں مسلمانوں کی تعمیراتی تاریخ میں اہم اور پرشکوہ عمارات سب سے پہلے بھنبھور میں تعمیر ہوئیں جو محمد بن قاسم کی آمد سے مرکز اسلام بنا تھا۔ بعد ازاں یہ سلسلہ جاری رہا۔ 1674ء میں مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے لاہور میں بادشاہی مسجد تعمیر کروائی جسے ماہرینِ تعمیرات برصغیر میں مساجد […]