مجھے کیا خبر کہ وہ ذکر تھا ، وہ نماز تھی کہ سلام تھا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍جولائی 2004ء کی زینت مکرم رشید قیصرانی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: مجھے کیا خبر کہ وہ ذکر تھا ، وہ نماز تھی کہ سلام تھا مرا اشک اشک تھا مقتدی ، ترا حرف حرف امام تھا مجھے رت جگوں کی صلیب پر زرِ خواب جس نے عطا کیا…

اطاعت اور وفا کی راہ پر ہم کو رواں رکھنا – نظم

روزنامہ الفضل‘‘ ربوہ 29؍جولائی 2004ء میں شامل اشاعت مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: اطاعت اور وفا کی راہ پر ہم کو رواں رکھنا خلافت کا ہمارے سر پہ سائباں رکھنا امامِ وقت اپنی ڈھال ہے، ہم ڈھال کے پیچھے امامِ وقت کو ہر معرکے میں کامراں رکھنا اگرمنہ…

تو جلوہ گر ہے اذنِ تماشا بھی دے مجھے – نظم

رسالہ ’’المصلح‘‘ کراچی کے یکم ستمبر 2004ء کے شمارہ میں شائع ہونے والی مکرم محمود الحسن صاحب کی ایک غزل سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: تو جلوہ گر ہے اذنِ تماشا بھی دے مجھے میں بے بصر ہوں دیدۂ بینا بھی دے مجھے جس سے مہک اٹھے مرا گلدستۂ حیات میرے حبیبؐ وہ گلِ رعنا…

خود گلے کا ہار ہوجائیں گے گل – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍مئی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم محمد افتخار احمد نسیم صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: خود گلے کا ہار ہوجائیں گے گل تو اگر کانٹوں میں رہنا سیکھ لے عشق کی منزل کٹھن ہے تو مگر کار زاروں سے گزرنا سیکھ لے آنکھ کے پانی میں پنہاں سوزِ دل…

لئے جاتا ہے ہمیں ترکِ نسب سے آگے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍جولائی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم پرویز پروازی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: لئے جاتا ہے ہمیں ترکِ نسب سے آگے راہ میں کوئی تو ہے راہِ طلب سے آگے پئے اظہارِجنوں بسکہ بڑھا لی ہم نے وسعتِ عرضِ ہنر عارض ولب سے آگے خوئے تسلیم یہی ہے سرِ…

ذہانت کی چمک آنکھوں میں ہے، جذبے ہیں سینوں میں – نظم

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ مارچ؍ 2004ء میں ممبرات لجنہ کے نام اپنے منظوم پیغام میں مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کہتی ہیں: ذہانت کی چمک آنکھوں میں ہے، جذبے ہیں سینوں میں یدِ بیضا ہیں پوشیدہ، بہت سی آستینوں میں جو مغرب کو نئے اطوار جینے کے سکھائیں گے ہیں ایسے بھی کئی چہرے انہی پردہ…

وعدہ اس کا وفا مدام ہوا – نظم

ماہنامہ ’’خالد‘‘ جولائی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم ناصر احمد سید صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: وعدہ اس کا وفا مدام ہوا پھر عطا ہم کو اک امام ہوا نقش میں نقش ہوگیا زنجیر حسن ہی حسن کا مقام ہوا گردشیں اب غلام ہیں اس کی جو کوئی آپ کا غلام ہوا…

وہ اپنے فیضِ کرم سے نہال کرتا ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍جولائی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالکریم قدسی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: وہ اپنے فیضِ کرم سے نہال کرتا ہے کمال آدمی ہے وہ کمال کرتا ہے میں بیٹھ جاتا ہوں لکھنے اسے دعا کے خطوط زمانہ جب بھی مجھے پر ملال کرتا ہے خزانے دے کے…

مَیں اُن کی بزم طریقت میں رہ کے آیا ہوں – نظم

٭ مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا کے مجلہ ’’النداء‘‘ کے سالانہ نمبر 2004ء کی زینت مکرم سلیم شاہجہانپوری صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے۔ یہ نظم آپ نے خدام کے سالانہ اجتماع سے واپسی پر کہی تھی:- مَیں اُن کی بزم طریقت میں رہ کے آیا ہوں مقام خوف و محبت میں رہ کے…

یاد کرکے اُسے تڑپا کروں، رویا کروں – نظم

سہ ماہی ’’خدیجہ‘‘ (سیدنا طاہر نمبر) میں شامل اشاعت مکرمہ سیدہ طیبہ زین صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: یاد کرکے اُسے تڑپا کروں، رویا کروں اے غم دل کیا لکھوں، بے تابی ٔ دل کیا لکھوں علم و عرفاں تھا وہ حسنِ عمل کا نُور تھا نُور بے پایاں ہے اس…

ہر امتحان سے ہر ابتلا سے گزرے ہیں – نظم

مکرم سلیم شاہجہانپوری صاحب کی ایک نظم بعنوان ’’مردان حق‘‘ سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ہر امتحان سے ہر ابتلا سے گزرے ہیں ہر ایک وادیٔ کرب و بلا سے گزرے ہیں نظر میں رکھی ہیں ہر دم منازل تقویٰ رہ صراط پہ فضلِ خدا سے گزرے ہیں نہ دل میں خوف نہ چہرے پہ…

سب ہیں تمنائی وہ آئے تم بھی ہو اور ہم بھی ہیں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12 جنوری 2005ء میں شامل اشاعت مکرم مبارک احمد عابد صاحب کی ایک غزل سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: سب ہیں تمنائی ، وہ آئے ، تم بھی ہو اور ہم بھی ہیں مَن میں اک یہ جوت جگائے ، تم بھی ہو اور ہم بھی ہیں جس میں نور کی بارش…

مرا معتبر حوالہ کوئی ہے تو بس یہی ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍مئی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم رشید قیصرانی صاحب کی ایک نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: مرا معتبر حوالہ کوئی ہے تو بس یہی ہے تری اک نظر کا صدقہ مری ساری زندگی ہے کہیں چاند رُت نے چھیڑا تری دلبری کا قصہ کہیں پھول کی زبانی تری بات چل…

پیاسوں کو جو پانی سے ہے سانسوں کو ہوا سے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍ مئی2004ء میں شائع ہونے والی مکرم مبارک احمد عابد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: پیاسوں کو جو پانی سے ہے سانسوں کو ہوا سے ہم ہیں کہ ہمیں ربط ہے اس شمع وفا سے آنکھیں کہ جھکی جاتی ہیں ان آنکھوں کے آگے اس بزم میں جب…

تم نے کہا تھا آن ملیں گے دیر ہے کل یا پرسوں کی – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍اپریل 2004ء میں مکرم مرزا الیاس احمد وقار صاحب کی ایک نظم ’’پریت کے گیت‘‘ سے انتخاب پیش ہے: تم نے کہا تھا آن ملیں گے دیر ہے کل یا پرسوں کی بھیگی اکھیاں چھوڑ گئے ہو اپنی دید کے ترسوں کی ابھی آمنے سامنے بیٹھنا تھا ابھی دل کے زخم دکھانا…

خانۂ دل میں روشن روشن ہے اس کی تصویر – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍اپریل 2004ء میں مکرم ضیاء اللہ مبشر صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: خانۂ دل میں روشن روشن ہے اس کی تصویر نور بھری تحریر تھی جس کی من موہن تقریر ہجر کی تند و تیز ہوا میں ہر گل تھا بے حال ہر بوٹا ، ہر پتا بے کل…

مَیں کس طرح جاناں ، ترے دربار میں بولوں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍فروری 2004ء میں شامل اشاعت مکرم رشید قیصرانی صاحب کی ایک خوبصورت نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: مَیں کس طرح جاناں ، ترے دربار میں بولوں جب تک کہ ہر اک لفظ کو اشکوں سے نہ دھو لوں بولے تُو کبھی گل کبھی شبنم کی زباں میں اور مَیں ترے ہر…

مسیحِ وقت کے انصار چاند کے ہالے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ 19؍اپریل 2004ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالمنان ناہید صاحب کی بہشتی مقبرہ کے بارہ میں ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: مسیحِ وقت کے انصار چاند کے ہالے نیازِ عشق کی راتوں میں جاگنے والے مئے وصال سے مدہوش ہوگئے آخر خدا کے بندے خدا میں ہی کھو گئے آخر یہ مقبرہ…

ضائع ہم آپؓ کا پیغام نہ ہونے دیں گے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍مئی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم ارشاد احمد شکیب صاحب کی نظم میں خدام کی طرف سے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں یوں عرض ہے: ضائع ہم آپؓ کا پیغام نہ ہونے دیں گے سرنگوں پرچمِ ایمان نہ ہونے دیں گے خدمتِ دیں کے عوض نفس کو اپنے ہرگز ہم کبھی…

یہ فیضِ نبوت کی برکت ہے ساری – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍مئی 2004ء کی زینت مکرم یعقوب امجد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: یہ فیضِ نبوت کی برکت ہے ساری کہ نورِ خلافت کا چشمہ ہے جاری رسالت کی خادم ، فضائل کی حامل خلافت ہے ایک منصب کامگاری خلافت کا بار امانت اٹھانا حقیقت میں ہے حق خدمت گزاری

سنی ہم نے جس دم نوائے خلافت – نظم

ماہنامہ ’’السلام‘‘ بیلجئم مئی، جون 2004ء میں شامل اشاعت مکرم ثاقب زیروی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: سنی ہم نے جس دم نوائے خلافت ہوئے جان ودل سے فدائے خلافت زمانے کی رفتار یہ کہہ رہی ہے بقا عدل کی ہے بقائے خلافت خلافت سہارا ہے ہم غمزدوں کا اسے رکھ سلامت…

کانٹوں کے درمیاں ہی تو کھلتے ہیں سب گلاب – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍فروری 2004ء میں شامل اشاعت مکرم خالد ہدایت بھٹی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے کانٹوں کے درمیاں ہی تو کھلتے ہیں سب گلاب اور تیرگی سے شب کی نکلتا ہے آفتاب سادہ بہت ہی شرحِ ثواب و عذاب ہے ان کی خوشی ثواب ہے ناراضگی عذاب بچپن چلا…

رات جب اپنے خیالوں میں مَیں تنہا نکلا – نظم

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ جولائی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالسلام اختر صاحب کے کلام سے انتخاب پیش ہے: رات جب اپنے خیالوں میں میں تنہا نکلا دفعتہً دل سے عجب کیف کا دریا نکلا بے خودی بامِ افق پر ہوئی سرگرمِ خرام بے کلی بول اٹھی وہ رُخِ زیبا نکلا چاندنی رات فقط آنکھ کا…

خلافت ہے نعمت ، خلافت انعام – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍جون 2004ء میں شامل اشاعت مکرم اعظم نوید صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: خلافت ہے نعمت ، خلافت انعام خلافت ہے تجدید دیں کا پیام کروں کیا بیاں اس کی مَیں خوبیاں اسی سے ہے جاری مئے حق کا جام اسی کا ہے دامن میسر مجھے اسی سے ہیں…

دل تھے ظلمت سے رنجور – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍فروری 2004ء میں شائع شدہ مکرم شاہد منصور صاحب کی ایک نظم سے دو بند ہدیۂ قارئین ہیں: دل تھے ظلمت سے رنجور صبح ہوئی پھر چمکا نُور عرش سے آنے لگی صدا اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُور تاج امامت سر پر ہے نُور خلافت در پر ہے قدرت ثانی سایہ فگن ہے…

رنگوں میں ہے رنگت تیری حرف کے چہرے تیرے ہیں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍فروری 2004ء میں شامل اشاعت مکرم رشید قیصرانی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: رنگوں میں ہے رنگت تیری حرف کے چہرے تیرے ہیں سارے علم اور ساری گنتی ، سارے ہندسے تیرے ہیں مَیں نے اپنی روح پہ جو بھی نقش ابھارے تیرے ہیں سادہ سا مَیں ایک ورق…