سہ ماہی ’’خدیجہ‘‘ (سیدنا طاہر نمبر) میں شامل اشاعت مکرمہ سیدہ طیبہ زین صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: یاد کرکے اُسے تڑپا کروں، رویا کروں اے غم دل کیا لکھوں، بے تابی ٔ دل کیا لکھوں علم و عرفاں تھا وہ حسنِ عمل کا نُور تھا نُور بے پایاں ہے اس […]
مکرم سلیم شاہجہانپوری صاحب کی ایک نظم بعنوان ’’مردان حق‘‘ سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ہر امتحان سے ہر ابتلا سے گزرے ہیں ہر ایک وادیٔ کرب و بلا سے گزرے ہیں نظر میں رکھی ہیں ہر دم منازل تقویٰ رہ صراط پہ فضلِ خدا سے گزرے ہیں نہ دل میں خوف نہ چہرے پہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12 جنوری 2005ء میں شامل اشاعت مکرم مبارک احمد عابد صاحب کی ایک غزل سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: سب ہیں تمنائی ، وہ آئے ، تم بھی ہو اور ہم بھی ہیں مَن میں اک یہ جوت جگائے ، تم بھی ہو اور ہم بھی ہیں جس میں نور کی بارش […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍مئی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم رشید قیصرانی صاحب کی ایک نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: مرا معتبر حوالہ کوئی ہے تو بس یہی ہے تری اک نظر کا صدقہ مری ساری زندگی ہے کہیں چاند رُت نے چھیڑا تری دلبری کا قصہ کہیں پھول کی زبانی تری بات چل […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍ مئی2004ء میں شائع ہونے والی مکرم مبارک احمد عابد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: پیاسوں کو جو پانی سے ہے سانسوں کو ہوا سے ہم ہیں کہ ہمیں ربط ہے اس شمع وفا سے آنکھیں کہ جھکی جاتی ہیں ان آنکھوں کے آگے اس بزم میں جب […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍اپریل 2004ء میں مکرم مرزا الیاس احمد وقار صاحب کی ایک نظم ’’پریت کے گیت‘‘ سے انتخاب پیش ہے: تم نے کہا تھا آن ملیں گے دیر ہے کل یا پرسوں کی بھیگی اکھیاں چھوڑ گئے ہو اپنی دید کے ترسوں کی ابھی آمنے سامنے بیٹھنا تھا ابھی دل کے زخم دکھانا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍اپریل 2004ء میں مکرم ضیاء اللہ مبشر صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: خانۂ دل میں روشن روشن ہے اس کی تصویر نور بھری تحریر تھی جس کی من موہن تقریر ہجر کی تند و تیز ہوا میں ہر گل تھا بے حال ہر بوٹا ، ہر پتا بے کل […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍فروری 2004ء میں شامل اشاعت مکرم رشید قیصرانی صاحب کی ایک خوبصورت نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: مَیں کس طرح جاناں ، ترے دربار میں بولوں جب تک کہ ہر اک لفظ کو اشکوں سے نہ دھو لوں بولے تُو کبھی گل کبھی شبنم کی زباں میں اور مَیں ترے ہر […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ 19؍اپریل 2004ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالمنان ناہید صاحب کی بہشتی مقبرہ کے بارہ میں ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: مسیحِ وقت کے انصار چاند کے ہالے نیازِ عشق کی راتوں میں جاگنے والے مئے وصال سے مدہوش ہوگئے آخر خدا کے بندے خدا میں ہی کھو گئے آخر یہ مقبرہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍مئی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم ارشاد احمد شکیب صاحب کی نظم میں خدام کی طرف سے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں یوں عرض ہے: ضائع ہم آپؓ کا پیغام نہ ہونے دیں گے سرنگوں پرچمِ ایمان نہ ہونے دیں گے خدمتِ دیں کے عوض نفس کو اپنے ہرگز ہم کبھی […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍مئی 2004ء کی زینت مکرم یعقوب امجد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: یہ فیضِ نبوت کی برکت ہے ساری کہ نورِ خلافت کا چشمہ ہے جاری رسالت کی خادم ، فضائل کی حامل خلافت ہے ایک منصب کامگاری خلافت کا بار امانت اٹھانا حقیقت میں ہے حق خدمت گزاری
ماہنامہ ’’السلام‘‘ بیلجئم مئی، جون 2004ء میں شامل اشاعت مکرم ثاقب زیروی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: سنی ہم نے جس دم نوائے خلافت ہوئے جان ودل سے فدائے خلافت زمانے کی رفتار یہ کہہ رہی ہے بقا عدل کی ہے بقائے خلافت خلافت سہارا ہے ہم غمزدوں کا اسے رکھ سلامت […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍فروری 2004ء میں شامل اشاعت مکرم خالد ہدایت بھٹی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے کانٹوں کے درمیاں ہی تو کھلتے ہیں سب گلاب اور تیرگی سے شب کی نکلتا ہے آفتاب سادہ بہت ہی شرحِ ثواب و عذاب ہے ان کی خوشی ثواب ہے ناراضگی عذاب بچپن چلا […]
ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ جولائی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالسلام اختر صاحب کے کلام سے انتخاب پیش ہے: رات جب اپنے خیالوں میں میں تنہا نکلا دفعتہً دل سے عجب کیف کا دریا نکلا بے خودی بامِ افق پر ہوئی سرگرمِ خرام بے کلی بول اٹھی وہ رُخِ زیبا نکلا چاندنی رات فقط آنکھ کا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍جون 2004ء میں شامل اشاعت مکرم اعظم نوید صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: خلافت ہے نعمت ، خلافت انعام خلافت ہے تجدید دیں کا پیام کروں کیا بیاں اس کی مَیں خوبیاں اسی سے ہے جاری مئے حق کا جام اسی کا ہے دامن میسر مجھے اسی سے ہیں […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍فروری 2004ء میں شائع شدہ مکرم شاہد منصور صاحب کی ایک نظم سے دو بند ہدیۂ قارئین ہیں: دل تھے ظلمت سے رنجور صبح ہوئی پھر چمکا نُور عرش سے آنے لگی صدا اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُور تاج امامت سر پر ہے نُور خلافت در پر ہے قدرت ثانی سایہ فگن ہے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍فروری 2004ء میں شامل اشاعت مکرم رشید قیصرانی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: رنگوں میں ہے رنگت تیری حرف کے چہرے تیرے ہیں سارے علم اور ساری گنتی ، سارے ہندسے تیرے ہیں مَیں نے اپنی روح پہ جو بھی نقش ابھارے تیرے ہیں سادہ سا مَیں ایک ورق […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍جنوری 2004ء کی زینت مکرم عبدالکریم خالد صاحب کی نظم ’’جذب شوق‘‘ سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: شب الم گزار کر سحر کی ہم اماں میں ہیں مگر یہ دشمنانِ دیں نہ جانے کس گماں میں ہیں دلوں میں جل رہی ہے جو ترے چراغ کی ہے لَو ترے قریب ہو کے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍مارچ 2004ء میں شامل اشاعت مکرمہ صاحبزادی امۃالقدوس صاحبہ کی ایک غزل سے انتخاب پیش ہے: انا کو مارنے کا جب ارادہ کرلیا مَیں نے تو فہم ذات کو صیقل زیادہ کر لیا مَیں نے وفا کا لفظ اُن کے لب سے کچھ اس شان سے نکلا کہ حرز جان پھر یہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍فروری 2004ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالسلام اسلام صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: آیا مرا مسیح تو کیا لایا انقلاب؟ تقدیرِ کُل جہاں کے ستارے بدل گئے اہل زمیں کے کیوں نہ بدلتے بھلا قلوب! جب چشمِ آسماں کے اشارے بدل گئے جن کی جبیں تھی فرش پر پہنچے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍مارچ 2004ء میں شامل اشاعت مکرم سلیم شاہجہانپوری صاحب کی نظم ’’ہدیۂ تشکر‘‘ سے چند اشعار پیش ہیں: نگاہِ لطف و کرم کا فقط کرشمہ ہے وگرنہ کیا ہوں مَیں اور کیا ہے شاعری میری کسی کے در پہ مَیں دھونی رمائے بیٹھا ہوں شہنشہی سے فزوں ہے قلندری میری خدا نمائی […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍مارچ 2004ء کی زینت مکرم حمیدالمحامد حامد صاحب کی نظم ’’قدرت ثانیہ‘‘ سے انتخاب پیش ہے: الٰہی رنگ سے رنگین ہے ہر قدرتِ ثانی نیابت میں مسیح پاک کے یہ شکل نورانی وہ اِک ماہ مبیں بن کر فرازِ دہر میں ابھرا چمک نے جس کی خیرہ کردیئے سب تاج سلطانی اعادہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16؍جنوری میں شامل اشاعت مکرمہ امۃالرشید بدر صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: ہر رنگ ترا رنگ تھا ہر حسن ترا حسن تُو نازش گل نازش صد شمس و قمر تھا چھٹتے تھے تری ذات سے اندر کے اندھیرے اس دہر کی ظلمات میں تُو چاند نگر تھا تھی برق […]
ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ دسمبر 2003ء میں شامل اشاعت حضرت مولانا مصلح الدین احمد راجیکی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: دل میں درد ، درد میں آنسو ہیں پیار کے کیا کیا ستم ہیں گردشِ لیل و نہار کے تم نے تو بزم دَہر سے پہلو بچا لیا یاں نَوحہ بن کے رہ […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍مارچ 2004ء میں شامل اشاعت مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: ہم ہیں مریض عشق ، دوا ہے تمہارے پاس میرے مسیح! دستِ شفا ہے تمہارے پاس دیکھی ہیں ہم نے آپ کی آنکھیں جھکی جھکی اک دلنشیں طرز حیا ہے تمہارے پاس تیغِ دعا کی […]
ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ نومبر 2003ء میں شامل اشاعت مکرمہ طلعت صدیقی صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: کہیں آرزوئے سفر نہیں کہیں منزلوں کی خبر نہیں کہیں راستہ ہی اندھیر ہے کہیں پا نہیں کہیں پر نہیں اے ہوائے موسمِ غم ذرا مجھے ساتھ رکھ میرے ساتھ چل میرے ساتھ میرے قدم نہیں […]