لدّاخ سے دریافت ہونے والی تبتی انجیل

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ جنوری اور مارچ 2009ء کے شماروں میں مکرم عبدالرحمن صاحب کے قلم سے ایک معلوماتی تاریخی مضمون شامل ہے جس میں لدّاخ کے علاقہ سے دریافت ہونے والی تبّتی انجیل پر مزید تحقیق کی ضرورت بیان کی گئی ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی کتب میں حضرت عیسیٰؑ کے ہندوستان کی […]

ہم جسم ہیں اور جان خلافت میں ہے اپنی – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2جولائی 2008 ء میں مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کا کلام شامل اشاعت ہے۔ اِس کلام میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ہم جسم ہیں اور جان خلافت میں ہے اپنی زندہ ہمیں کر دیتا ہے عنوانِ خلافت اس سائے میں عافیت و آرام بہت ہے تاحدِ زمیں پھیلا ہے دامانِ خلافت […]

خلفائے کرام سے متعلق ذاتی مشاہدات

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ ستمبر 2008ء میں محترم چودھری محمد علی صاحب خلفائے کرام سے تعلقات کے حوالہ سے اپنی یادیں بیان فرماتے ہیں۔ محترم چودھری محمد علی صاحب بیان فرماتے ہیں کہ جب ربوہ میں کالج بن رہا تھا تو اس وقت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ گرمی میں، دھوپ میں کھڑے ہوکر، مزدوروں میں […]

بھیگی آنکھوں کانپتے ہونٹوں کا ہے تجھ سے سوال – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11جولائی 2008 ء میں مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کا کلام شامل اشاعت ہے۔ اِس کلام میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: بھیگی آنکھوں کانپتے ہونٹوں کا ہے تجھ سے سوال اے خدا ، قائم خلافت کا رہے جاہ و جلال یہ ہمارا آشیاں ہے سائباں ہے امن کا یہ ہے وہ […]

محترم محمد خان رانا صاحب ایڈووکیٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24 و 26 جنوری 2009ء میں محترم محمد خان رانا صاحب کی وفات اور تدفین کی خبریں شامل اشاعت ہیں۔ محترم محمد خان رانا صاحب کا ایک انٹرویو 19ستمبر 1997ء کے شمارہ کے ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ کی زینت بن چکا ہے۔ آپ بے لوث خادم سلسلہ اور ماہر قانون تھے۔ 20؍ جنوری 2009ء […]

محترمہ فرحت سکینہ اختر صاحبہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15 جنوری 2010ء میں مکرم مسعود احمد ناصر وینس صاحب نے اپنی والدہ محترمہ فرحت سکینہ اختر صاحبہ کا ذکرخیر کیا ہے۔ مکرمہ فرحت سکینہ اختر صاحبہ 1936ء میں کالیہ ضلع شیخوپورہ میں ایک معزز زمیندار مکرم محمد اسماعیل صاحب چندھڑ کے گھر پیدا ہوئیں۔ آپ کی والدہ محترمہ رحیم بی بی […]

وہ رشک مَلائک یہی تاج ہے – نظم

ماہنامہ ’’انصاراﷲ‘‘ ربوہ اپریل 2008ء میں مکرم عبدالسلام اسلامؔ صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: وہ رشک مَلائک یہی تاج ہے یہی آدمیّت کی معراج ہے یہ نُورِ خدا کی ہے جَلوہ گری یہ تکوین کا نقطۂ محوری ’’عدُوئے مبیں ‘‘ اِس سے پامال ہے قبائے خلافت تری ڈھال ہے یہ زندہ تو […]

محترم مولانا محمد صدیق صاحب ننگلی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍جنوری 2009ء میں محترم مولانا محمد صدیق صاحب ننگلی کا ذکرخیر مکرم لئیق احمد مشتاق صاحب مربی سلسلہ سورینام کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ خاکسار کو ذاتی طور پر محترم مولانا محمد صدیق ننگلی صاحب مرحوم سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن جس جگہ خاکسار […]

ازل سے ہی تو خاتم الانبیاء تھا – نعتیہ کلام

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ جولائی، اگست 2008ء میں مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی ایک نعت شامل اشاعت ہے جس میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ازل سے ہی تو خاتم الانبیاء تھا ازل سے ہی تو نقطۂ منتہاء تھا جب ارض و سما ، نہ زمان و مکاں تھا اندھیرا خلا تھا ، دھوآں ہی […]

حضرت ملک سیف الرحمٰن صاحب

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ جون 2009ء میں حضرت ملک سیف الرحمٰن صاحب کا ذکرخیر مکرم عبدالغفار ڈار صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ ملک صاحب مرحوم حضرت مصلح موعودؓ کے دَور ِ خلافت میں آئے اور بہت جلد اپنے علم وفضل اور اخلاص کی وجہ سے حضور کی خصوصی توجہ کا مورد بن گئے۔ یہ […]

مرحبا آقا! مبارک آپ کی آمد یہاں – نظم

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ جولائی و اگست 2008ء میں مکرم صادق باجوہ صاحب کے قلم سے ایک منظوم سپاسنامہ بحضور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ پیش کیا گیا ہے۔ جس میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: مرحبا آقا! مبارک آپ کی آمد یہاں ہے نصیبوں کی گھڑی ممکن نہیں جس کا بیاں صدقِ دل […]

محترم چودھری برکت علی صاحب

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ مارچ 2009ء میں محترم چوہدری برکت علی صاحب کا ذکرخیر کرتے ہوئے آپ کی بیٹی رقمطراز ہیں کہ آپ سیالکوٹ کے ایک گاؤں ملپرکے زمیندار گھرانے اور کٹر سنّی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو کہ پیرپرستی میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔ تقویٰ شعار، پنجوقتہ نماز ادا کرنے والے اور تہجد گزار […]

اے مسیحؑ ، اے عظمت کے زندہ نشاں – نظم

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ اگست 2008ء میں مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی ایک طویل خوبصورت نظم شامل اشاعت ہے جس میں سے انتخاب پیش ہے: اے مسیحؑ ، اے عظمت کے زندہ نشاں تو محمدؐ مصطفیٰ کے دین کا ہے پاسباں تو خدا کی گود میں تھا مثلِ طفلِ شیر خوار تھا خدا تیرے لئے […]

خلفائے کرام سے متعلق ذاتی مشاہدات

ما ہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ ربوہ جولائی 2008ء میں محترم ڈاکٹر مسعودالحسن نوری صاحب خلفائے کرام سے متعلق اپنے ذاتی مشاہدات کو بیان کرتے ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒ : دسمبر 1981ء میں جب حضرت سیدہ منصور ہ بیگم صاحبہ بیمار تھیں، گردے کام کرنا چھوڑ گئے تھے، اُن کی زندگی کے آخری ایام میں قصر […]

زمیں ہماری ہے اور آسماں ہمارا ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ14جولائی 2008 ء میں مکرمہ امۃالباری ناصر صاحبہ کا کلام شامل اشاعت ہے۔ اِس کلام میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے۔ زمیں ہماری ہے اور آسماں ہمارا ہے خدا کے فضل سے سارا جہاں ہمارا ہے بڑھے چلو کہ مقدر میں کامیابی ہے ہم احمدی ہیں مسیحِ زماں ہمارا ہے خدا کا وعدہ […]

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا ذکر خیر

ماہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ ربوہ اگست 2008ء میں ’’ایک مردِ حق کی چند یادیں‘‘ کے عنوان سے مکرم سید ساجد احمد صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ میں ضلع گجرات کی مجلس خدام الاحمدیہ کا معتمد تھا کہ صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحبؒ مجلس کے صدر کے عہدہ فائز ہوئے۔ […]

یہ تو ہے سلسلہ محبت کا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8جولائی 2008 ء میں مکرم محمد مقصود احمد منیبؔ صاحب کا کلام شامل اشاعت ہے۔ اِس کلام سے انتخاب پیش ہے: یہ تو ہے سلسلہ محبت کا دیپ جلتا رہے خلافت کا مجھ کو بھی خاک سے اٹھایا ہے معجزہ ہوں میں اس کی بیعت کا ہم کو سینے سے آ لگاتا […]

جماعت جسم ہے اور دل خلافت – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ26 جولائی 2008 ء میں مکرم فاروق محمود صاحب کا کلام شامل اشاعت ہے جو درّثمین کی ایک نظم کی تظمین ہے۔ اِس کلام میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: جماعت جسم ہے اور دل خلافت مرے آقا کی مولا کر حفاظت غلاموں کو عطا کر دے سعادت اطاعت کرتے جائیں تا قیامت […]

خلفائے کرام سے متعلق ذاتی مشاہدات

ما ہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ ربوہ کے مختلف شماروں میں ’’رنگ بہار‘‘ کے عنوان سے تین مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں خلفائے کرام سے متعلق ذاتی مشاہدات بیان کئے گئے ہیں۔ پہلا مضمون جولائی 2008ء کے شمارہ میں محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کا ہے جس میں آپ اپنے ذاتی مشاہدات کا اظہار یوں […]

تہمت عشق پر ناز ہم نے کیا، یہ تو تمغہ ہے ہم عاشقوں کے لئے – نظم

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ2009ء میں مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی ایک نظم شائع ہوئی ہے جس میں سے انتخاب پیش ہے: تہمت عشق پر ناز ہم نے کیا، یہ تو تمغہ ہے ہم عاشقوں کے لئے سر بچایا نہیں بارش سنگ سے، آئینے وقف ہیں پتھروں کے لئے اہل دل کے ادب کی نشانی ہے […]

سیرۃ حضرت مصلح موعودؓ

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ نومبر 2008ء میں مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب کے قلم سے حضرت مصلح موعودؓ کے حوالہ سے چند دلنشیں یادوں کا تذکرہ شامل اشاعت ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ حضورؓ نے 1951ء میں میرا وقف قبول فرمایا۔ حضور کے علم میں تھا کہ میں ملازمت چھوڑ کر آیا تھا اس لئے […]

مری قسمت میں لکھی شب تجھے ڈھلنا ہوگا – نظم

پندرہ روزہ ’’المصلح‘‘ کراچی اکتوبر2008ء میں مکرم احسان اللہ قمر صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے جس میں سے انتخاب پیش ہے: مری قسمت میں لکھی شب تجھے ڈھلنا ہوگا مہِ کامل کو مرے گھر میں اترنا ہوگا راحت زیست کی خواہاں ہے مری ذات مگر بزم مقتل جو سجی پھر، مجھے چلنا ہوگا […]

خلافت احمدیہ کی دوسری صدی کے پہلے شہید – محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی شہید

محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب امیر جماعت ضلع میرپور خاص کو 8ستمبر 2008ء کی دوپہر اُن کے ہسپتال’’فضل عمر کلینک ‘‘ میرپورخاص میں دو شرپسندوں نے گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ آپ کو بطور امیر ضلع میر پور خاص کے علاوہ مجلس خدام الاحمدیہ میں قائد علاقہ حیدر آباد اور نگران صوبہ سندھ کے […]

محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی شہید کا خاندان

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍نومبر 2008ء میں مکرم محمد عبدالماجد صدیقی صاحب لکھتے ہیں کہ میرے تایازاد بھائی محترم ڈاکٹر عبدالرحمن صدیقی صاحب نے ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھا۔ 1948ء میں پاکستان آکر حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ سے ہدایت چاہی تو حکم ملا کہ آپ میرپورخاص سندھ چلے جائیں اور وہیں رہائش اختیار کریں۔ چنانچہ […]

ترے خیال سے دل کو فگار کرتے ہیں – نظم

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ اکتوبر ، نومبر 2008ء میں محترم عبدالمنان صدیقی شہید کے بارہ میں مکرم عبدالشکور صاحب کی کہی ہوئی یہ مختصر نظم شامل اشاعت ہے: ترے خیال سے دل کو فگار کرتے ہیں یقیں تو آتا نہیں اعتبار کرتے ہیں یہ کوئی کہنہ شجر تو نہیں تھا کٹ جاتا شگفتہ شاخ کو زیرِ […]

محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی شہید کی یادیں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍اکتوبر2008ء میں مکرم حنیف احمد محمود صاحب بیان کرتے ہیں کہ مکرم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب اپنے پیاروں میں مَنُّوں بھائی کے نام کے ساتھ جانے پہچانے جاتے تھے۔ آپ خلافت احمدیہ کی دوسری صدی کے پہلے شہید ٹھہرے۔ خاکسار سے موصوف کا تعلق گو پرانا نہیں تاہم گہرا ضرور تھا۔ ان […]