Saturday, 12th September, 2026
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

لکھتی رہوں ، لکھتی رہوں ، تب بھی نہ عیاں ہوں – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 10؍اکتوبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ کے کلام سے انتخاب ذیل میں ہدیۂ قارئین ہے: لکھتی رہوں ، لکھتی رہوں ، تب بھی نہ عیاں ہوں سو سال لکھوں تب بھی فضائل نہ بیاں ہوں قرآن سمندر ہے خزانوں سے بھرا اِک اس دنیا کے ماتھے پہ نگینہ […]

فیض میں آفتاب لگتا ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 22؍اکتوبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرمہ امۃالباری ناصر صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: فیض میں آفتاب لگتا ہے حسن میں ماہتاب لگتا ہے خُلق میں الکتاب لگتا ہے آپ اپنا جواب لگتا ہے جس بھی پہلو سے دیکھئے اس کو پور پور انتخاب لگتا ہے بات میں رنگ اور […]

سوغاتِ فن نہ دانشِ عالم شکار دے – دعائیہ نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 20؍نومبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرم ڈاکٹر محمودالحسن صاحب کے کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: سوغاتِ فن نہ دانشِ عالم شکار دے یا ربّ! مجھے جنوں کی خلش پائیدار دے آئی نہیں ہیں راس مجھے کج کلاہیاں طبعِ قلندری و دلِ خاکسار دے میری نظر میں ہے وہی فرماں روائے دہر جو […]

مکرم حمید المحامد صاحب مرحوم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ر بوہ 14نومبر 2012ء میں مکرم حمیدالمحامد صاحب کا ذکرخیر مکرم مجیب الرحمن صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے مکرم حمید المحامد صاحب 18؍ اکتوبر 2009ء کو حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئے۔ ؎ موت حامدؔ یوں گلے اٹھ کر ملی جیسے ہم سے تھی شناسائی بہت مرحوم میرے چچازاد بھائی […]

ایسا سُر ایسی تال ہوجائے – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 17؍نومبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرم مبارک احمد ظفرؔصاحب کے کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: ایسا سُر ایسی تال ہوجائے فرشِ دل پہ دھمال ہوجائے رنگ جائے جو رنگِ جاناں میں آپ اپنی مثال ہوجائے شکر تیرا تری امان میں ہیں ورنہ جینا محال ہوجائے

یہ پھول ، یہ شبنم ، یہ ہوا تیرے لئے ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 16؍ ستمبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرم عبد الصمد قریشی صاحب کی نظم سے انتخاب پیش ہے: یہ پھول ، یہ شبنم ، یہ ہوا تیرے لئے ہے گلشن کی یہ مخمور فضا تیرے لئے ہے خوشبوؤں سے معمور ہیں اس گھر کی فضائیں یاں لطف و کرم سب سے جدا تیرے […]

کوئی عاشق ہے کسی کی خوبی گفتار کا – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ6؍جولائی 2009ء میں شامل اشاعت حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کے کلام بعنوان ’’معرفت نفس‘‘ سے انتخاب پیش ہے: کوئی عاشق ہے کسی کی خوبی گفتار کا کوئی متوالا بنا ہے ابروئے خمدار کا بادشاہِ حسن سے یہ لوگ غافل ہیں تمام قبلہ و کعبہ جو ہے ہر کافر و دیندار کا […]

توفیق دے خدا مجھے لکھوں مَیں اُس کی نعت – نعتیہ کلام

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 10؍جون 2009ء میں شامل اشاعت مکرم فاروق محمود صاحب کے نعتیہ کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: توفیق دے خدا مجھے لکھوں مَیں اُس کی نعت آمد سے جس کی ختم ہوئی اک طویل رات ہے اس جہاں کی دھوپ میں چھاؤں اُسی کی ذات ابرِکرم تھی ہونٹوں سے نکلی جو کوئی بات […]

ہمراہ مناجات کا ایک شور گیا ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍اکتوبر 2009ء میں محترم مولانا دوست محمد صاحب کے بارہ میں شائع ہونے والی مکرم مبشر احمد محمود صاحب کی نظم سے انتخاب: ہمراہ مناجات کا ایک شور گیا ہے جس رہ کا مسافر تھا اسی اَور گیا ہے تاریخ کتابیں یہ مقالے یہ حوالے اک علم کا دریا تھا جو رُخ […]

فَنا کے باب میں اُس کو بَقا نصیب ہوئی – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 4؍ ستمبر 2009ء میں شامل مکرم ناصر احمد سید صاحب کے کلام بعنوان ’’ہمارا دوست محمد‘‘ سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: فَنا کے باب میں اُس کو بَقا نصیب ہوئی تھا خوش نصیب کہ رب کی رضا نصیب ہوئی خوشا کہ لکھی ہے تاریخ احمدیت کی زَہے نصیب کہ خِدمت جُدا نصیب ہوئی […]

رحلت سے ایک عالمِ کے عالَم ہے غمزدہ – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍فروری 2010ء میں مکرم چودھری شبیر احمد صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے جو محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب کی یاد میں کہی گئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: رحلت سے ایک عالمِ کے عالَم ہے غمزدہ نادر وجود تھا جو جدا ہم سے ہو گیا […]

تُو اپنی ذات میں تھا انجمن، ادارہ تھا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍اکتوبر 2009ء میں محترم مولانا دوست محمد صاحب کے بارہ میں شائع ہونے والی مکرم مبارک عابد صاحب کی نظم سے انتخاب پیش ہے: تُو اپنی ذات میں تھا انجمن، ادارہ تھا اسی لئے تو ہر اک آنکھ کا تُو تارا تھا بجا ہے یہ کہ حوالوں کا بادشاہ تھا تُو اور […]

تاریخ ، کتابیں ، یہ مقالے ، یہ حوالے – قطعہ

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 7؍ ستمبر 2009ء میں مکرم مبشر احمد محمود صاحب کا محترم مولوی دوست محمد صاحب کے حوالہ سے درج ذیل قطعہ شائع ہوا ہے: تاریخ ، کتابیں ، یہ مقالے ، یہ حوالے اِک علم کا دریا تھا جو رُخ موڑ گیا ہے پھر ویسا کوئی آئے گا پر دیر لگے گی […]

خوبرو و خوش نوا و خوش لحن – نظم

محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب کی یاد میں مکرم سید اسرار احمد توقیر صاحب کا کلام ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ نومبر 2009ء میں شامل ہے۔ اس میں سے انتخاب پیش ہے: خوبرو و خوش نوا و خوش لحن دوست محمد ماہر ہر فکر و فن کاروبارِ خدمتِ دیں پر نثار کام اور بس کام کی […]

اٹھ گیا بزمِ جہاں سے اور اک عالی وقار – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 28؍ ستمبر 2009ء میں مکرم طاہر عارف صاحب کا کلام محترم مولوی دوست محمد شاہد صاحب کی یاد میں شائع ہوا ہے۔ اس میں سے انتخاب پیش ہے: اٹھ گیا بزمِ جہاں سے اور اک عالی وقار باغِ احمد کا شجر اک خوشنما و سایۂ دار منکسر ، عاجز ، وہ خادم […]

مہدی کی صداقت کا – محترم مولوی دوست محمد شاہد صاحب کی یاد میں نظم

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا ستمبر و اکتوبر 2009ء میں محترم مولوی دوست محمد شاہد صاحب کی یاد میں مکرم عبدالکریم قدسی صاحب کا کلام شائع ہوا ہے جس میں سے انتخاب پیش ہے: مہدی کی صداقت کا عاشق تھا خلافت کا عالم تھا ۔ مناظر تھا دریا تھا فصاحت کا تاریخ نویسی میں انداز قیامت […]

قتیل عشق جب جاں سے گزرتا ہے تو لکھتا ہوں – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 18؍ اگست 2009ء میں شامل اشاعت مکرم انور ندیم علوی صاحب کی نظم سے انتخاب پیش ہے: قتیل عشق جب جاں سے گزرتا ہے تو لکھتا ہوں کوئی گہرے سمندر میں اُترتا ہے تو لکھتا ہوں ’’اناالحق‘‘ کا لگے نعرہ، کوئی جب دار کو چومے کہیں ’’منصور‘‘ کا پیکر ابھرتا ہے تو […]

ہے اہلِ اَنجمن پہ گراں اے مرے خدا – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ20؍جولائی 2009ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالمنان ناہید صاحب کے کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: ہے اہلِ اَنجمن پہ گراں اے مرے خدا یہ خامشی مری کہ تکلّم کہیں جسے مانوس ہو چکا ہے غم زندگی سے دل شاید خوشی یہی ہے تاَلّم کہیں جسے تیرے کرم سے مجھ کو ملی ہے وہ […]

ہم شہر ان کے پیار کا دل میں بسائیں گے – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ2؍جولائی 2009ء میں شامل اشاعت مکرم مبارک احمد ظفر صاحب کی غزل سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: ہم شہر ان کے پیار کا دل میں بسائیں گے آنکھوں میں شوقِ دید کی شمعیں جلائیں گے ان کے غم فراق میں آنسو گرائیں کیوں جب روبرو ملیں گے تو دریا بہائیں گے تھوڑی سی اپنے […]

شبِ تاریک کے پردوں سے سحر ہو جائے – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ25؍جولائی 2009ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالصمد قریشی صاحب کے کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: شبِ تاریک کے پردوں سے سحر ہو جائے میرے مولیٰ مرے گلشن پہ نظر ہو جائے دور ہو جائیں مرے گھر سے بلائیں ساری اس کا ہر شہر محبت کا نگر ہو جائے ختم ہو جائیں سبھی کذب […]

کیسے لکھوں میں یار کی مدح میں کیا لکھوں – نعت

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 22؍جولائی 2009ء میں شامل اشاعت مکرم فاروق محمود صاحب کے نعتیہ کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: کیسے لکھوں میں یار کی مدح میں کیا لکھوں نعت ِ رسولِؐ پاک میں مَیں کیا بھلا لکھوں اُن کو حریمِ قدس کا میں آئینہ لکھوں یا پھر بشر کی ابتدا اور انتہا لکھوں جتنا بھی […]

خوب راز و نیاز کی راتیں، خوب سوز و گداز کے دن ہیں – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 12؍ ستمبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کے کلام بعنوان ’’اعتکاف کے دس دن‘‘ سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: خوب راز و نیاز کی راتیں، خوب سوز و گداز کے دن ہیں آنسوؤں سے وضو کیا دل نے،عاشقوں کی نماز کے دن ہیں بند کر لے کواڑ دنیا سے، […]

محمدؐ اور احمدؐ ہیں آقا کے نام – نعتیہ کلام

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ23؍جولائی 2009ء میں شامل اشاعت مکرم الیاس ناصر دہلوی صاحب کے طویل نعتیہ کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: محمدؐ اور احمدؐ ہیں آقا کے نام شفیع الوریٰ اور خیر الانام تمام انبیاء کے ہیں خاتم امام نہ حاصل کسی اور کو یہ مقام خدا اور فرشتوں کا ہر دم سلام رسولِ خدا مرحبا […]

دیار رحمت میں رہنے والو یہ دن ہیں فیضان ایزدی کے – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 14؍ ستمبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالسلام اختر صاحب کے کلام بعنوان ’’ماہ مبارک کے آخری ایام‘‘ سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: دیار رحمت میں رہنے والو یہ دن ہیں فیضان ایزدی کے نشاط و تسکیں کے جام بھر لو ۔ کھلے ہیں در بزم سرمدی کے یہ دلنشیں دامن تلطّف ۔ […]

جھولی میں لے کے برکتیں رمضان آ گیا – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 7؍ ستمبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرمہ ڈاکٹرفہمیدہ منیر صاحبہ کے کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: جھولی میں لے کے برکتیں رمضان آ گیا اک ماہ میں لوٹ جائے گا مہمان آ گیا ہوتا ہے آسماں سے فرشتوں کا پھر نزول دروازے کھول دیجئے ذیشان آ گیا اپنی عبادتوں کو سنوارو خدا […]

کام کیا کیا نہ محبت کا نشہ کرتا ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ16؍جولائی 2009ء میں شامل اشاعت مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کے کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: کام کیا کیا نہ محبت کا نشہ کرتا ہے سجدہِ شوق کو مقتل میں ادا کرتا ہے ایک نشہ سا رگ و پے میں اُترتا جائے اِک کرشمہ سا ترا دستِ شفا کرتا ہے یہ کرامت تو […]