رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم راشد ارشد خان صاحب ناظم اعلیٰ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکو پہلی مرتبہ قریب سے دیکھنے کا موقع صدسالہ جلسہ سالانہ قادیان میں حفاظت اسٹیج کی ڈیوٹی کے دوران ملا۔ خاکسار 1993ء میں جرمنی آ گیا اور […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم عبدالشکور اسلم صاحب اپنی یادوں کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ 1980ء میں جب میری عمر تقریباً 20 سال ہو گی، حضورؒ اس وقت Syngenic Corporation کے ڈائریکٹر تھے اور اس سلسلے میں کراچی آتے رہتے تھے۔ میرے والد عبدالغفور منوری صاحب اس کے منیجر […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں شامل اشاعت مکرم مقصودالحق صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: وہ شخص کہ ہم سے کیا بچھڑا اک عہد کا سورج ڈوب گیا وہ شخص ہمارا جیون تھا وہ شخص دلوں کی دھڑکن تھا دھڑکن جو رُکی تو رُک کے چلی اک روپ نئے میں […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم ظفر احمد ناگی صاحب ریجنل قائد بیان کرتے ہیں کہ ایک پہلو جس کو خاکسار نے جرمنی آنے کے بعد حضورؒ کی ذات میں بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا وہ یہ کہ آپؒ پاکستان سے نئے آنے والوں کا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔ 1996ء […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم زبیر خلیل خان صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ جرمنی بیان کرتے ہیں کہ حضور انورؒ نومبائعین کو عام نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ بلکہ خلافت کے ساتھ جس کا تعلق قائم ہوگیا وہ اس وجود کا حصہ بن جاتا۔ آپ ؒ مختلف اقوام کے نومبائعین کے […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں محترم حاجی غلام محی الدین صادق صاحب مرحوم کا کلام شائع ہوا ہے۔ اِس نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: کرّوبیاں ہیں سینہ سِپر آپ کے لئے لکھ دی گئی ہے فتح و ظفر آپ کے لئے سرکار دو جہاں کی غلامی کے فیض سے کھلتے ہیں آسمان […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم مولانا مبارک احمد تنویر صاحب مبلغ سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ بھی اُن اہل فارس میں سے تھے جنہوں نے ایمان کو ثریا سے زمین پر واپس لانا تھا۔ خاکسار کو آپؒ کی ذات مبارک سے پہلا تعارف بچپن میں اُس وقت ہوا […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍اکتوبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم چودھری شبیر احمد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے۔ یہ نظم سیالکوٹ میں 1904ء میں حضرت مسیح موعودؑ کے ورود کے حوالہ سے کہی گئی ہے: کتنی تُو خوش نصیب ہے اے ارضِ سیالکوٹ تجھ کو مسیح وقت نے اپنا کہا وطن اس […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم فلاح الدین خان صاحب سابق صدر مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ جب صدرمجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ تھے تو مَیں ضلع سیالکوٹ میں مجلس کا معتمد تھا اور اکثر ربوہ میٹنگز پر جانے کا موقع ملتا تھا۔ حضورؒ […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم بشیر احمد ناصر سندھو صاحب اپنے مضمون میں بیان کرتے ہیں کہ ہم جرمنی کے خدام واقعی ہی بہت خوش نصیب ہیں کہ ہمیں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کا بے حد پیار ملا۔ دراصل یہ تو انہی کا ظرف تھا جو ہم پراگندہ حال، ہجرزدہ، […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم انور خان صاحب (ریجنل قائد) بیان کرتے ہیں کہ جلسہ سالانہ یوکے پر فیملی ملاقات کے دوران حضورؒ نے فرمایا کہ آ پ ہر سال ایک ہی بیٹی کو لے کر آجاتے ہیں کیا بات ہے۔ خا کسا ر نے عرض کی حضورؒ! آپ کی دعا […]
مکرم محمد افضل گل صاحب کبڈی کے بہترین کھلاڑیوں میں سے تھے۔ حضورؒ آپ کو اور آپ کے کھیل کو بہت پسند فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا’’افضل کی کھیل بھی اس کے نام کی طرح افضل ہے‘‘۔ رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم افضل صاحب بیان کرتے ہیں کہ خلیفہ بننے سے […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کے حوالہ سے مکرم عبد الرحمن مبشر صاحب صدر مجلس انصاراللہ جرمنی و سابق افسر جلسہ سالانہ جرمنی بیان کرتے ہیں کہ جب مجھے افسر جلسہ سالانہ مقرر کیا گیا تو حضورؒ کی تشریف آوری کا سوچ کر بہت بوجھ تھا۔ جس […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍نومبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم ملک منیر احمد ریحان صابر صاحب کی ایک غزل سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: تیرے بِن اب تو کچھ بھی نہیں شہر میں کہہ رہے ہیں یہ سارے مکیں شہر میں کتنے طائر چمن زار کے خوش لحن ہو گئے ہیں جو گوشہ نشیں شہر میں […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم ڈاکٹر عبدالغفار صاحب مربی سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ کینیڈا سے پارلیمنٹ کے ممبر آئے تھے تو وہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے بارہ میں کہنے لگے کہ He is the encyclopedia of knowledge کہ آپ علوم کا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ ایک ماہ رمضان میں درس القرآن کے […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍نومبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالصمد قریشی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: وہ حسن رنگِ سخن لاجواب ہے اُس کا نگاہ لطف و کرم بے حساب ہے اُس کا وہ بولتا ہے تو خوشبو سی پھیل جاتی ہے ہر ایک لفظ معطر گلاب ہے اُس کا ہیں […]
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے 1989ء میں جب تمام ممالک میں قائم ذیلی تنظیموں میں صدارت کے نظام کا اجراء کیا تو اس کے بعد ہر ملک میں ذیلی تنظیموں نے بہت زیادہ ترقی کی۔ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی 1990ء کی دہائی کے آغاز میں فرینکفرٹ کے علاقہ بونامیس میں واقع دو کمروں پر […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم عبدالباسط طارق صاحب مربی سلسلہ اپنے مضمون میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے خلافت سے بہت پہلے دارالذکر لاہور میں رمضان میں سورۃ القدر کا درس دیا جس میں عربی گرائمر اور عربی محاورہ کی تشریح کی اور بتایا کہ جب قرآن […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍ستمبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم خواجہ عبدالمومن صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خدائے پاک رحماں کا یہ ہم پہ کتنا احساں ہے عطا کی ہم کو وہ تعلیم جس کا نام قرآں ہے اگر آتا نہ یہ قرآں بھٹک جاتے سبھی انساں ہمارے واسطے لا ریب، یہ […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم محمد منور عابد صاحب سابق صدر خدام الاحمدیہ جرمنی بیان کرتے ہیں کہ 1990 ء میں میر ے جر منی آنے کے بعد اسی سا ل جلسہ سالا نہ کے مو قع پر مجھے حضر ت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ ایک […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم حیدر علی ظفر صاحب مبلغ انچارج جرمنی اپنے مضمون میں تحریر کرتے ہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ کی یادیں ایک نہ مٹنے والا سرمایہ ہیں۔ میں جب جامعہ احمدیہ ربوہ میں زیرِ تعلیم تھا تب آپ ؒ کو پہلی بار دیکھا۔ ایک بار جامعہ کی […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍جولائی 2007ء میں مکرم محمد مقصود احمد منیب صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے جس میں سے انتخاب پیش ہے: ضبط ِ احوال سوچتے ہوں گے اب تو بس خواب سلسلے ہوں گے مالکانِ جہانِ سرداری برسرِ دار سج گئے ہوں گے چاند جب تھال میں سجا ہوگا سر ندامت سے […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم منیرالدین احمد صاحب (سابق انچارج مرکزی شعبہ رشتہ ناطہ ربوہ) اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ احباب جماعت حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ کو خلیفہ بننے سے پہلے بھی اپنے بچوں کے رشتوں کے لئے بھی درخواست کرتے تھے۔ یہ سلسلہ خلیفہ بننے کے بعد بھی […]
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں محترم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب سابق مبلغ انچارج جرمنی کے ساتھ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی شفقت کا ذکر کرتے ہوئے مکرم میاں محمد محمود صاحب سابق صدر خدام الاحمدیہ جرمنی بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ مولانا عطاء اﷲ کلیم صاحب کا بہت خیال رکھتے تھے اور […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍اگست 2007ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالصمد قریشی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: فکر کو جمال دیں حسن بے مثال دیں مختصر سی زیست کو نقش لازوال دیں دل شکستہ روح کو عزمِ پُرجلال دیں نفرتوں کے آئینے شہر سے نکال دیں
رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب امیر جماعت جرمنی بیان کرتے ہیں کہ میں پہلی دفعہ 1977میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ سے ملا۔ اِس سے کچھ دیر قبل میں نے قادیان میں بیعت کی تھی۔ اس کے بعد میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے ملاقات کیلئے ربوہ پہنچا۔ اِس […]