خلافت ارتقاءِ نسلِ انسانی کی صورت ہے – نظم

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ کے مئی 2007ء کے شمارہ میں حضرت قاضی ظہورالدین اکمل صاحبؓ کی خلافت سے متعلق ایک نظم شائع ہوئی ہے جس میں سے انتخاب پیش ہے: خلافت ارتقاءِ نسلِ انسانی کی صورت ہے یہ مومن صالح الاعمال کی جاوید دولت ہے خلافت ہی سے استحکام احکام شریعت ہے ٰخلافت ہی سے قطع […]

ہم کو یہ چاہت کہاں تھی بے ارادہ ہوگئی – نظم

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ دسمبر 2007ء میں شائع ہونے والی مکرم مبارک احمد عابد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ہم کو یہ چاہت کہاں تھی بے ارادہ ہوگئی بے قراری شوق کی حد سے زیادہ ہوگئی جونہی وہ محفل میں آیا دل کھنچے اُس کی طرف ہر کسی کی آنکھ محو استفادہ […]

ہو جائے گر اجازت کردوں بیاں یہ چاہت – نظم

جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم ناصر راجپوت صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ہو جائے گر اجازت کردوں بیاں یہ چاہت تسکینِ جان و دل ہے گلدستۂ خلافت سو سال کی کہانی اِک پل کا خواب گویا تعبیرِ خوابِ جنت ، فیض و نشاط و راحت جو ہم کو […]

اِس خلافت کے سو برس دیکھے – نظم

جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم خالد ملک ساحل صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: اِس خلافت کے سو برس دیکھے بس محبت کے سو برس دیکھے ایک لمحہ بھی خیر کافی تھا پھر بھی قدرت کے سو برس دیکھے اُس کی تبلیغ ہر طرف دیکھی اُس کی وسعت کے […]

خلافت سے ہماری زندگی ہے – نظم

جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم عطاء المجیب راشد صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خلافت سے ہماری زندگی ہے خلافت سے ہی شانِ احمدی ہے خدا کی ذات کی زندہ گواہی اسی کے فیض سے ہم کو ملی ہے غم و آلام کا اکسیر مرہم ہر اِک بگڑی ہوئی […]

خلافت کی نعمت عطا جس نے کی ہے – نظم

جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم مقصودالحق صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خلافت کی نعمت عطا جس نے کی ہے اسی کے تشکر کی یہ جوبلی ہے خوشی کی یہ ساعت بہت ہی بڑی ہے اور عہد آفریں اس کی اِک اِک گھڑی ہے دلوں سے نوائے ثنا اٹھ […]

خلافت نے کیا کونین کا مقصود آدم کو – نظم

جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم میر اللہ بخش تسنیم صاحب کے طویل خوبصورت کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خلافت نے کیا کونین کا مقصود آدم کو خلافت نے فرشتوں کا کیا مسجود آدم کو خدا کا ہاتھ ہوتا ہے خلافت کے ارادوں میں مرادیں حق کی شامل ہیں خلافت کی […]

کروں کیا بیاں مَیں ثنائے خلافت – نظم

جماعت احمدیہ جرمنی کے خلافت سووینئر میں شامل مکرم ڈاکٹر وسیم احمد طاہر صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: کروں کیا بیاں مَیں ثنائے خلافت کہ خود مدح خواں ہے خدائے خلافت مسلماں اکٹھے ہوں اِک ہاتھ پر پھر یہ ممکن نہیں ہے سوائے خلافت بظاہر خلافت سے ہیں جو گریزاں ہے اُن […]

بجز ترے فضل کے الٰہی سلوکِ نجات کیا ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍اگست 2007ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالمنان ناہید صاحب کی نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: بجز ترے فضل کے الٰہی سلوکِ نجات کیا ہے تُو جانتا ہے کہ لغزش پا ہے کیا ، قدم کا ثبات کیا ہے حیات پر بھی، ممات پر بھی ، تمام تر اختیار تیرا مجھے تو […]

ہیں تیرے نقش پا روشنی کے دیے – نظم

ماہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ ربوہ مئی2007ء میں شائع شدہ مکرم لئیق احمد عابد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: ہیں تیرے نقش پا روشنی کے دیے تو سراپا محبت ہے سب کے لیے میرا آقا ہے تو ، عبدِ رحمن ہے تیرے قدموں میں رہنا میری شان ہے جس نے دیکھا تجھے وہ تیرا […]

آپ جب ہم سفر نہیں ہوتے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍جولائی 2007ء میں شامل اشاعت مکرم طارق محمود سدھو صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: آپ جب ہم سفر نہیں ہوتے راستے مختصر نہیں ہوتے عشق میں ہوش گو نہیں رہتا یوں مگر در بدر نہیں ہوتے پیار میں جب کسی کے ہو جائیں اس سے پھر بے خبر […]

دل میں ہے کوئی تمنا نہ الم ہے ہم کو – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍دسمبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم سلیم شاہجہانپوری صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: دل میں ہے کوئی تمنا نہ الم ہے ہم کو ایک فقط تیرے بچھڑ جانے کا غم ہے ہم کو غم فردا ، غم دنیا ، غم عقبیٰ ، غم عشق جس قدر چاہے یہ […]

قرآن وہ کتاب ہے جس کا نہیں جواب – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍دسمبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالسلام اسلام صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: قرآن وہ کتاب ہے جس کا نہیں جواب اس کی تجلّیات سے اٹھتے ہیں سب حجاب ہاں چھیڑتا ہے فطرتِ انساں کا ساز یہ ہر آنکھ پر ہے کھولتا ہستی کا راز یہ قرآں محیط […]

کیسے عیاں نہ ہوتی بلاغت کتاب کی – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍دسمبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم احمد مبارک صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: کیسے عیاں نہ ہوتی بلاغت کتاب کی تھی تیرگی میں نُور ہر آیت کتاب کی ہے دم بخود جو آئینہ کون و مکان کا حیرت کا اِک جہان ہے صورت کتاب کی اس ارضِ بے […]

تُو نے دیکھی بزم درویشاں کی ہر تیرہ شبی – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25جون 2007ء میں مکرم عبدالمنان صاحب کی ایک نظم بیاد حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب شائع ہوئی ہے۔ اِس نظم سے انتخاب پیش ہے: تُو نے دیکھی بزم درویشاں کی ہر تیرہ شبی تجھ سے روشن ہر چراغ خانۂ درویش بھی مہدیٔ دوراں کے سینہ میں دھڑکتا تھا جو دل تھی […]

قرآن زمانے کی ہدایت کے لئے ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍دسمبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم مبارک احمد عابد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: قرآن زمانے کی ہدایت کے لئے ہے اللہ کی عظمت کی شہادت کے لئے ہے جو صاحبِ ایمان ہے دیوانہ ہے اس کا یہ باعث تزئین عبادت کے لئے ہے ہم کتنے بھی ڈوبے […]

رحمت باری کو دن رات برستے دیکھا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍اگست 2007ء میں شامل اشاعت مکرم عطاء المجیب راشد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے۔ یہ نظم جلسہ سالانہ 2007ء کے نظاروں سے متأثر ہوکر کہی گئی ہے: رحمت باری کو دن رات برستے دیکھا اُس کے فضلوں کو صبح و شام اُترتے دیکھا اک مسیحا کی صدا نے […]

ہے درد بھرے دل کو ارمان وصیت کا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍دسمبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے جو نظام وصیت کے لئے کی جانے والی تحریک کے پیش نظر کہی گئی ہے: ہے درد بھرے دل کو ارمان وصیت کا مولا مرے کر دینا سامان وصیت کا اقرار بیعت پر یہ […]

ایک ہی لمحے ہزاروں لاکھ سجدہ ریز تھے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍اکتوبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم ڈاکٹر محمد صادق جنجوعہ صاحب کی عالمی بیعت کے حوالہ سے لکھی گئی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ایک ہی لمحے ہزاروں لاکھ سجدہ ریز تھے جن کے پیمانے خداکے عشق سے لبریز تھے کیاں کہوں کیا مَیں نے دیکھی شان ان عشاق کی […]

ہمارا جلسہ سالانہ اگرچہ چھن گیا ہم سے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍دسمبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالسلام صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ہمارا جلسہ سالانہ اگرچہ چھن گیا ہم سے مگر اس کے مقابل پر ملے ہیں سینکڑوں جلسے وہی جلسہ ہوا ہے اب محیط کُل جہاں گویا ہماری داستاں ہے ایک زندہ داستاں گویا صدا مہدی کی […]

اس دل کی اُجڑی بستی میں آ بیٹھ ذرا گر تُو چاہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍نومبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: اس دل کی اُجڑی بستی میں آ بیٹھ ذرا گر تُو چاہے دیوار و در کو دھو دھو کر میں دوں چمکا گر تُو چاہے میں فرش زمیں کو صاف کروں خود اپنے میلے […]

اُجلے اُجلے ماہ کامل نے تڑپایا ساری رات – نظم

رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں محترم حاجی غلام محی الدین صادق صاحب مرحوم کا کلام شائع ہوا ہے۔ اِس نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: اُجلے اُجلے ماہ کامل نے تڑپایا ساری رات روشن روشن صورت نے اک حشر دکھایا ساری رات شام ڈھلے ہی دکھ کے بادل آن سمائے آنکھوں میں جل […]

روئے زمیں پہ دین کے سلطان تمہیں تو ہو – نعت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم نومبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم حکیم سید عبدالہادی مونگھیری صاحب کی ایک نعت سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: روئے زمیں پہ دین کے سلطان تمہیں تو ہو شمس و قمر سے بڑھ کے درخشاں تمہیں تو ہو احسان آپ کا ہے ہر اِک جاندار پر خلق خدا میں رحمت یزداں […]

اُبھرا افق سے اِک نیا خورشید دیکھنا – نظم

رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں محترم حاجی غلام محی الدین صادق صاحب مرحوم کا کلام شائع ہوا ہے۔ اِس نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: اُبھرا افق سے اِک نیا خورشید دیکھنا کھلنے لگے ہیں نئے روزنِ امید دیکھنا بعث مسیح پاک کی اب دوسری صدی آتی ہے لے کے نصرت و تائید […]

وہ شخص کہ ہم سے کیا بچھڑا – نظم

رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں شامل اشاعت مکرم مقصودالحق صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: وہ شخص کہ ہم سے کیا بچھڑا اک عہد کا سورج ڈوب گیا وہ شخص ہمارا جیون تھا وہ شخص دلوں کی دھڑکن تھا دھڑکن جو رُکی تو رُک کے چلی اک روپ نئے میں […]

کرّوبیاں ہیں سینہ سِپر آپ کے لئے – نظم

رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں محترم حاجی غلام محی الدین صادق صاحب مرحوم کا کلام شائع ہوا ہے۔ اِس نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: کرّوبیاں ہیں سینہ سِپر آپ کے لئے لکھ دی گئی ہے فتح و ظفر آپ کے لئے سرکار دو جہاں کی غلامی کے فیض سے کھلتے ہیں آسمان […]